Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

آئینی عدالت بننے سے عام عدالتوں کا کردار کم ہو جائے گا،فیصل چوہدری

اسلام آباد (اے بی این نیوز)فیصل چودھری نے اے بی این نیوز کے پروگرام سوال سے آگے میں گفتگو کرتے ہو ئے کہا پارلیمنٹ کا بنیادی کام قانون سازی ہے، مگر یہ عوامی نمائندہ پارلیمنٹ نہیں۔
اس حکومت نے آئینی ترامیم کے منشور پر الیکشن نہیں لڑا۔
26ویں ترمیم میں عدلیہ کے اختیارات متاثر کیے گئے۔ اب ایک سپر پارلیمنٹ طرز کی آئینی عدالت بنائی جا رہی ہے۔ آئینی عدالت بننے سے عام عدالتوں کا کردار کم ہو جائے گا۔ ملک میں عدالتیں اپنے احکامات پر عملدرآمد کرانے سے قاصر ہیں۔
موجودہ پارلیمنٹ میں نہ بحث ہوتی ہے نہ قانون سازی پر شفافیت ہے۔ قانون سازی کے مسودے پبلک ڈومین میں نہیں لائے جاتے۔ آئینی ترامیم پر وکلا، میڈیا یا عوام کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
این ایف سی میں تبدیلی سے پہلے صوبوں سے مشاورت نہیں کی گئی۔
191 آرٹیکل ختم کرنے کا مطلب عدالتی اختیارات محدود کرنا ہے۔ 243 میں ترمیم سے سی ڈی ایس کے عہدے پر اثر پڑے گا۔ دنیا طے شدہ اصولوں اور آئین کے مطابق چلتی ہے۔
یہاں آئین کے مطابق کوئی کام نہیں ہو رہا۔
حکومت ڈنڈا ٹولی کے انداز میں کام کر رہی ہے۔ ایسے اقدامات دیرپا ثابت نہیں ہوں گے۔ ملک میں نہ انڈسٹری چل رہی ہے، نہ روزگار کے مواقع ہیں۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری ختم ہو چکی ہے۔
حکومت نے اب تک کوئی عملی کارکردگی نہیں دکھائی۔ آنے والے دنوں میں حکومت سیاسی سپیس کسی کو دینا نہیں چاہتی۔ سیاسی خوف اور بے یقینی نے نظام کو جام کر دیا ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ
پیپلز پارٹی قیادت آئینی ترمیمی کمیشن لانے کی تیاری کر رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں نے مجوزہ کمیشن پر تحفظات کا اظہارکیا ۔ پارٹی ہمیشہ اجتماعی فیصلے کمیٹی کے ذریعے کرتی ہے۔ پارٹی روایت رہی ہے کہ ہر فیصلہ مشاورت سے لیا جاتا ہے۔ حتمی فیصلہ پارٹی چیئرمین کریں گے، مشاورت جاری ہے۔
پیپلز پارٹی آئینی ترمیمی کمیشن پر مشاورت کے عمل میں مصروف ہے۔ پارٹی کے تمام فیصلے مرکزی کمیٹی کی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا کہ 27ویں ترمیم پر تفصیلی مشاورت ہوگی۔
پیپلز پارٹی نے 27ویں آئینی ترمیم پر تاحال باضابطہ مؤقف نہیں دیا۔ آئینی پیکیج سے متعلق ہر شق پر تفصیلی ڈسکشن کی جائے گی۔ 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق تجاویز میں 5آرٹیکلز کی تبدیلی زیرِ غورہیں۔
اٹھارویں ترمیم سے متعلق بھی تجاویز سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے خاتمے یا خودمختاری کی ریورسل پر کوئی اتفاق نہیں ہوگا۔ آئینی ترامیم پر پارٹی کی بیٹھک میں تفصیلی بات چیت ہوگی۔
حتمی لائحہ عمل پارٹی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی طے کرے گی۔
مزید پڑھیں:کل سینیٹ اجلاس طلب، صدر مملکت کا نوٹیفکیشن جاری

یہ بھی پڑھیں