لاہور(ویب ڈیسک)بھارت سے آئی خاتون یاتری جس نے اسلام قبول کرکے پاکستان کے شہری سے شادی کرلی، خاتون بیان سامنے آئی ہے جس نے بھارتی میڈیا اور پروپیگنڈا کرنے والی مودی حکومت کو آئینہ دکھا دیا۔
سربجیت کور سے’نور‘ نام رکھنے والی بھارتی خاتون یاتری نے کہا کہ اسلام قبول کرنا اور شادی کرنا دونوں ان کے اپنے فیصلے ہیں، اور اس میں کوئی زبردستی شامل نہیں۔
خاتون نے عدالت میں بتایا کہ انہوں نے اپنی خوشی سے اسلام قبول کیا ہے اور پاکستانی شہری نصیر حسین سے شادی کی ہے۔ انہوں نے مجسٹریٹ شہباز حسن رانا کو بتایا کہ ان پر نہ کوئی دباؤ تھا اور نہ کسی نے انہیں مجبور کیا۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہیں۔
عدالت میں ان کی وکیل کے طور پر احمد حسن پاشا پیش ہوئے۔ عدالت میں دیے گئے بیان کے مطابق سربجیت کور نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام نور رکھا، اور انہوں نے اپنا فیصلہ مکمل طور پر خود کیا۔ نکاح 5 نومبر 2025 کو فاروق آباد میں ہوا، جس میں حق مہر 10 ہزار روپے رکھا گیا تھا، جو پہلے ہی ادا کیا جا چکا ہے۔
نور نے عدالت میں دوبارہ کہا کہ اسلام قبول کرنا اور شادی کرنا دونوں ان کے اپنے فیصلے تھے، اور اس میں کوئی زبردستی شامل نہیں تھی۔ نکاح نامے میں درج ہے کہ وہ پہلے سے طلاق یافتہ ہیں اور دو بچوں کی ماں ہیں۔
سربجیت کور 4 نومبر کو سکھ یاتریوں کے ایک گروپ کے ساتھ پاکستان آئی تھیں۔ یہاں آنے کے بعد انہوں نے گروپ کو چھوڑ دیا اور بعد میں ایک پاکستانی شہری سے شادی کر لی۔
گمشدگی کی رپورٹ کے بعد پولیس اور حساس اداروں نے تلاش شروع کی۔ جمعہ کے روز پتہ چلا کہ انہوں نے پاکستانی نوجوان سے شادی کر لی ہے۔ اگلے دن وہ خود عدالت میں پیش ہوئیں اور اپنا حلفیہ بیان دیا۔
اب متعلقہ ادارے فیصلہ کریں گے کہ آیا انہیں بھارت واپس بھیجا جائے یا پاکستان میں رہنے کی اجازت دی جائے، کیونکہ ان کا ویزا 13 نومبر کو ختم ہو چکا ہے۔
مزیدپڑھیں:موسم کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی

