اسلام آباد(ویبڈیسک)وزیراعظم نے ملکی برآمدکنندگان پر نافذ کردہ ایکسپورٹ ڈیویلپمنٹ سرچارج فوری طور پر ختم کرنے کی خصوصی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ برآمدات کے فروغ کے لیے صنعت کاروں کو ہر ممکن سہولت دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی برآمدات میں اضافے سے متعلق قائم کردہ ذیلی ورکنگ گروپ کی سفارشات کا جائزہ اجلاس وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں برآمدی سیکٹر کے لیے متعدد اہم فیصلے اور ہدایات جاری کی گئیں۔
اجلاس میں چیئرپرسن ذیلی ورکنگ گروپ مصدق ذوالقرنین نے ورکنگ گروپ کی تفصیلی سفارشات پیش کیں، جس پر وزیراعظم نے گروپ کے کام کی تعریف کی اور متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔
پاکستان کی برآمدات زیادہ تر مستحکم رہیں، رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ کے دوران مجموعی برآمدات 13.7 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 13 ارب ڈالر تھیں۔
گزشتہ ماہ عالمی بینک نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان کی برآمدات کا جی ڈی پی میں حصہ مسلسل گررہا ہے اور یہ اپنی اصل صلاحیت سے نمایاں طور پر کم ہے جو تقریباً 60 بلین امریکی ڈالر کی غیر استعمال شدہ برآمدی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
جائزہ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ (ای ڈی ایف) کے پچھلے 5 سال کی تھرڈ پارٹی آڈٹ بین الاقوامی معیار کے مطابق کرائی جائے۔
اجلاس میں وزیراعظم نے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ (ای ڈی ایف) کے گزشتہ پانچ سال کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کا حکم دیا جبکہ فنڈ کے بہتر اور موثر استعمال کے لیے پرائیویٹ سیکٹر سے موزوں چیئرمین کے انتخاب کی بھی ہدایت کی۔
شہباز شریف نے زور دیا کہ ای ڈی ایف میں موجود رقم کو صرف برآمدات میں اضافے، متعلقہ تحقیق و ترقی، برآمدی افرادی قوت کی ہنر مندی، تربیت اور عالمی معیار کی سہولتوں کے لیے استعمال کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فنڈ کا غیر متعلقہ یا غیر منطقی استعمال کسی صورت قابل قبول نہیں۔
مزید برآں وزیراعظم نے ٹڈاپ کے کردار کے اصلاحاتی جائزے اور ادارے کی تشکیل نو کی ہدایت کی تاکہ برآمدی اشیاء کی عالمی سطح پر مؤثر تشہیر ممکن ہوسکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستانی برآمدی مصنوعات کی پروموشن وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
اجلاس میں وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر تجارت جام کمال، وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ اظہر بلال کیانی، چیئرمین سوف آئی ایف سی اور دیگر سینئر حکومتی اہلکار شریک ہوئے۔