Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

نیٹ میٹرنگ سے متعلق نئی اصلاحات، وفاقی وزیر توانائی نے اچھی خبر سناد ی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری نے کہا حکومت پاور سیکٹر کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مکمل طور پر ڈیجیٹل، شفاف اور صارف مرکز نظام میں تبدیل کررہی ہے۔ نیٹ میٹرنگ سے متعلق نئی اصلاحات چند ہفتوں میں سامنے آجائیں گی۔

لمز یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام ایشیا انرجی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان 2035 تک اپنی 90 فیصد بجلی صاف اور ماحول دوست ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف رکھتا ہے، جبکہ ملک میں شمسی توانائی کی تیز رفتار ترقی عالمی سطح پر مثال بن چکی ہے۔ عوام نے اپنے طور پر 50 گیگا واٹ تک کے سولر پینلز نصب کیے، جو ایک اہم پیش رفت ہے۔

اس وقت ملک کی 52 فیصد بجلی صاف توانائی سے حاصل کی جارہی ہے، جو ایک اہم سنگِ میل ہے۔ ڈسکوز کی نجکاری اور سرکلر ڈیٹ میں کمی حکومتی ایجنڈے کے اہم حصے ہیں، کم ترقی یافتہ ممالک کم اخراج کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سب سے زیادہ سامنا کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ پاکستان نے 17 گیگا واٹ کے سولر پینل درآمد کرکے تیزی سے بڑھتی ہوئی ایشیائی شمسی مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے، بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلز کو سولرائز کر کے پانی اور توانائی کے بحران میں واضح کمی لائی جا رہی ہے۔

اویس لغاری کے مطابق ’اپنا میٹر اپنی ریڈنگ‘ ایپ نے صارفین کو مکمل اختیار فراہم کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ توانائی کا سبز ذرائع کی طرف سفر پاکستان کے لیے ماحول اور معیشت دونوں اعتبار سے ناگزیر ہے، حالانکہ ملک کا عالمی اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے مگر خطرات کے لحاظ سے یہ ٹاپ 10 ممالک میں شامل ہے۔

عالمی توانائی سفارتکاری تیزی سے بدل رہی ہے، خطے میں سالانہ 300 ارب ڈالر کے قریب موسمیاتی نقصانات درج کیے جا رہے ہیں، جبکہ قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کے لحاظ سے ایشیا 900 فیصد اضافے کے ساتھ دنیا بھر میں سب سے آگے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیٹ میٹرنگ سے متعلق نئی اصلاحات چند ہفتوں میں سامنے آجائیں گی، جبکہ ’سی ٹی بی ایم سی‘ پالیسی منظوری کے لیے ارسال کردی گئی ہے اور اگلے سال کی پہلی سہ ماہی میں نافذ ہو جائے گی۔
مزیدپڑھیں:پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی لین دین ! نئے قواعد تیار

یہ بھی پڑھیں