اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر برائے توانائی اویس احمد لغاری نے امریکی سفیر نتالی بیکر سے ملاقات میں پاکستان کے توانائی شعبے میں اصلاحات، تعاون کے فروغ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر تفصیلی گفتگو کی۔ ملاقات میں وزیر توانائی نے امریکی سفیر سے درخواست کی کہ وہ امریکہ میں قائم مالیاتی اداروں، خصوصاً آئی ایم ایف اور عالمی بینک، کو پاکستان کے پاور سیکٹر کی پائیدار بہتری کے لیے رکاوٹیں دور کرنے میں معاونت پر آمادہ کریں۔
اویس لغاری نے بتایا کہ ترقیاتی شراکت داروں کا تعاون پاکستان کو ساختی اصلاحات نافذ کرنے اور شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ وزیر توانائی نے امریکی سفیر کو حال ہی میں متعارف کرائے گئے سرپلس پاور پیکیج پر بھی بریفنگ دی اور کہا کہ یہ پیکیج صنعتی شعبے کو سستی بجلی فراہم کر کے معاشی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گرین فیلڈ انڈسٹریز کو بھی اس پیکیج میں شامل کرنے کے لیے امریکا تعاون فراہم کرے۔
ملاقات میں بجلی کے ترسیلی اور تقسیمی نظام میں موجود تکنیکی و تجارتی نقصانات کم کرنے، ریکوری بہتر بنانے اور مجموعی کارکردگی میں بہتری کے لیے جاری اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی سفیر نے پاور ڈویژن کی اصلاحات کو سراہا اور کہا کہ حکومت پاکستان نے سرکلر ڈیٹ کے سدباب اور نظامی بہتری کے لیے ڈیٹا پر مبنی مؤثر حکمت عملی اپنائی ہے۔
دونوں جانب سے امریکی نجی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان کے پاور ٹرانسمیشن سیکٹر میں سرمایہ کاری کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔ امریکی سفیر نے اس شعبے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا جسے مستقبل میں اہم سرمایہ کاری کا مرکز قرار دیا گیا۔
اس کے علاوہ ملاقات میں تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ وزیر توانائی نے امریکی سفیر سے درخواست کی کہ وہ امریکا کے سرمایہ کاروں کو موجودہ نجکاری کے عمل میں حصہ لینے کے لیے ترغیب دیں، کیونکہ نجی شعبے کی شمولیت سے کارکردگی اور سروس ڈلیوری میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔
مزیدپڑھیں:اغوا کے بعد ڈاکٹر وردا کی جان کیوں لی گئی ؟ اصل کہانی سامنے آگئی

