اسلام آباد (رضوان عباسی سے)آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ حکومت کے 100 دن مکمل ہونے پر وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کشمیر ہاؤس میں خصوصی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مختصر عرصے میں عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال کرنے اور گڈ گورننس کے فروغ کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔
کشمیر ہاؤس منعقدہ پریس کانفرنس کے موقع پر وزیر خزانہ قاسم مجید، وزیر اطلاعات رفیق نیئر، وزیر برائے کشمیر کاز نبیلہ ایوب، وزیر خوراک جاوید بڈھانوی، مشیر حکومت احمد صغیر اور میڈیا ایڈوائزر سید عزادار کاظمی بھی وزیراعظم کے ہمراہ موجود تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج ہماری حکومت کو 100 دن مکمل ہو چکے ہیں اور اس دوران شفافیت، میرٹ اور عوامی خدمت کو حکومتی پالیسی کا محور بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تین ماہ کے مختصر عرصے میں ریاست کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی اور ہیجانی کیفیت کا خاتمہ کیا گیا اور سرکاری مشینری کو متحرک بنا کر عوامی مسائل کے حل پر بھرپور توجہ دی گئی۔
فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھا کہ ہم نے عوام سے براہِ راست رابطہ استوار کیا، وزیراعظم ہاؤس کے دروازے عام شہریوں کے لیے کھولے اور شکایات کے ازالے کے نظام کو فعال بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سنبھالنے سے قبل سیاسی اور انتظامی نظام غیر مؤثر ہو چکا تھا، تاہم موجودہ حکومت نے ریاست میں سیاسی و انتظامی استحکام پیدا کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 100 دنوں کے دوران گورننس کی بہتری کے لیے متعدد اصلاحات کا آغاز کیا گیا جبکہ کئی ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد بھی رکھ دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وقت کم ہے، تاہم ہماری کوشش ہے کہ آئندہ نسلوں کے لیے مضبوط اور پائیدار بنیادیں چھوڑ کر جائیں۔
اوورسیز کشمیریوں کے حوالے سے وزیراعظم نے بتایا کہ بیرون ملک مقیم کشمیریوں کی جائیدادوں سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے خصوصی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور اوورسیز کمشنر کی تعیناتی بھی کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز کمیونٹی کو ریاستی ترقی کے عمل میں شامل کرنے کے لیے بامعنی مباحثے کا آغاز کیا گیا ہے۔
علاقائی اور قومی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت مشکل حالات سے گزر رہا ہے اور قومی یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمارے بہادر مسلح افواج کے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے سرحدوں کا دفاع کر رہے ہیں اور ہم دشمن کی ہر قسم کی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی پاکستان کی سلامتی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور کشمیری عوام ہر موقع پر پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ معرکۂ حق کے بعد مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر مزید اجاگر ہوا ہے اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاست کے عوام کا اعتماد بحال ہو چکا ہے اور تمام سرکاری ادارے بھرپور انداز میں عوامی خدمت کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
مزیدپڑھیں:میرا گھر میرا آشیانہ سکیم کے لیے قرض کی حد 10 ملین روپے تک بڑھا دی گئی




