ایران سے پاکستانیوں کی واپسی کے عمل کے تحت 51 شہری بحفاظت وطن پہنچ گئے ہیں۔
پہلا قافلہ گبد رمدان سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہوا۔
ڈپٹی کمشنر گوادر نے بتایا کہ واپس آنے والوں میں پانچ طلبہ بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ تاجر اور سیاح بھی ایران میں پھنسے ہوئے تھے۔
علاقائی کشیدگی اور ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے بعد حالات خراب ہوئے۔
اسی وجہ سے پاکستانی شہریوں کی واپسی کا فیصلہ کیا گیا۔
سرحد پر ایف آئی اے نے چوبیس گھنٹے امیگریشن کا انتظام کیا ہے۔
سفری اور سیکیورٹی کارروائی ترجیحی بنیادوں پر مکمل کی جا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے عارضی رہائش اور کھانے کا انتظام کیا۔
شہریوں کو ان کے آبائی علاقوں تک پہنچانے کے لیے سفری سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
وزیر اعظم نے دفتر خارجہ کو ہدایت کی کہ ایران میں موجود تمام پاکستانیوں کی محفوظ واپسی یقینی بنائی جائے۔
متعلقہ اداروں کو باہمی رابطے سے مؤثر اقدامات کرنے کی بھی تاکید کی گئی۔
دفتر خارجہ نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔
ایران میں موجود پاکستانیوں کو محتاط رہنے اور سفارتی مشنز سے رابطے میں رہنے کا کہا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ایران سے پاکستانیوں کی واپسی کا عمل جاری ہے۔
مزید شہریوں کی واپسی کے لیے انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔




