مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان کو معاشی خطرات اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ حکام نے یہ خدشات عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ہونے والے چھ ماہہ جائزہ اجلاس میں ظاہر کیے۔
حکام کے مطابق امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ خاص طور پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان کے کچھ معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے باعث عالمی حالات غیر یقینی ہیں جس سے خطرات بدستور موجود ہیں۔
حکام کے مطابق فروری 2026 میں بنیادی مہنگائی کی شرح 7.6 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ خوراک، ایندھن اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے باعث مہنگائی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
رواں مالی سال کے دوران معاشی شرح نمو 4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ یہ حکومت کے مقررہ ہدف 4.2 فیصد سے کچھ کم ہے۔
اجلاس میں پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر پر بھی بات کی گئی۔ آئی ایم ایف نے جون تک 18 ارب ڈالر ذخائر کا ہدف مقرر کیا ہے۔
اس وقت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 16.3 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔
حکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے باوجود ترسیلات زر مستحکم رہنے کی توقع ہے۔ اس سال بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے 43 ارب ڈالر ترسیلات زر آنے کا اندازہ ہے۔
دوسری جانب کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 2 ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے۔
حکومت نے اجلاس میں چند مجوزہ ٹیکس اقدامات بھی پیش کیے جن کے لیے آئی ایم ایف کی منظوری درکار ہوگی۔
ان تجاویز میں شامل ہیں:
تنخواہ دار طبقے کے لیے آمدنی ٹیکس میں 5 فیصد کمی
کمپنیوں اور امیر افراد پر سپر ٹیکس کا خاتمہ
جائیداد کی آمدنی پر ٹیکس میں کمی
برآمدات پر 1 فیصد ایڈوانس ٹیکس کا خاتمہ
حکام کے مطابق اگر آئی ایم ایف منظوری دیتا ہے تو یہ اقدامات آئندہ بجٹ کا حصہ بن سکتے ہیں۔


