Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

سکیورٹی فورسز نے2مشکوک ڈرونز ناکارہ بنا دیئے، وزارت اطلاعات

اسلام آباد ( اے بی این نیوز  )اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دو مشکوک ڈرون مار گرائے ہیں۔ وزارت اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے جدید الیکٹرانک نظام کے ذریعے دونوں ڈرونز کو ناکارہ بنایا جس کے بعد وہ زمین پر گر گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دوران کسی بھی فوجی تنصیب یا دیگر بنیادی ڈھانچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

وزارت اطلاعات کے مطابق گرائے گئے ڈرونز سے متعلق بعض دعوے سامنے آئے تھے تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی قابل تصدیق ثبوت موجود نہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈرونز کو الیکٹرانک طریقے سے غیر فعال کیا گیا اور بعد ازاں ان کا ملبہ بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے تاکہ مزید تحقیقات کی جا سکیں۔

حکام کے مطابق ڈرون گرنے کے باعث چند مقامات پر معمولی نقصان ہوا تاہم صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور دارالحکومت میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ متعلقہ ادارے واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ ڈرونز کی نوعیت اور ان کے ممکنہ مقصد کے بارے میں واضح معلومات حاصل کی جا سکیں۔

واقعے کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ حساس مقامات کی نگرانی مزید بڑھا دی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس خبر نے خاصی توجہ حاصل کی ہے اور شہری سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کو سراہ رہے ہیں۔

وزارت اطلاعات کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے کیے گئے بعض دعوؤں کے حق میں کوئی قابلِ تصدیق شواہد موجود نہیں ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے دعوے دراصل پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہوتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ طالبان حکومت کے بعض سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس ماضی میں بھی جھوٹی خبروں اور گمراہ کن معلومات پھیلانے میں ملوث رہے ہیں، جن میں پاکستان فضائیہ کے طیارے گرانے اور پائلٹس کو گرفتار کرنے جیسے دعوے شامل تھے، جو بعد میں خود ہی حذف کر دیے گئے۔

وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان کی سکیورٹی فورسز کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر چوکس ہیں اور ملک کے دفاع کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جا رہا ہے۔

بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ سچ ہمیشہ جھوٹ پر غالب آتا ہے اور عوام کو غیر مصدقہ خبروں پر یقین کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔


مزیدپڑھیں:کیش لیس نظام جانیں‌کن شہر میں؟ خریداری کے نئے طریقے اور فوائد

یہ بھی پڑھیں