اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستانی شہریوں کو قومی شناختی کارڈ بنوانے کی بڑی مشکل آسان کرتے ہوئے انہیں خصوصی سہولت فراہم کر دی گئی ہے۔
18 سال کی عمر کا ہر پاکستانی قومی شناختی کارڈ کا اہل ہے۔ شہریوں کو اپنا قومی شناختی کارڈ حاصل کرنے کے لیے نادرا کو کئی مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنا پڑتی ہیں اور اگر ان میں سے ایک بھی دستاویز کم ہو تو شناختی کارڈ نہیں بن پاتا اور لوگوں کے کئی اہم امور رک جاتے ہیں۔
ان ہی میں مطلوبہ دستاویزات میں ایک کمپیوٹرائزڈ پیدائشی سرٹیفکیٹ ہے، جو شناختی کارڈ کی درخواست دینے والے ہر شخص کے پاس ہونا لازمی ہے اور ایسے ہزاروں افراد ہیں جو یہ قانونی دستاویز نہ ہونے کی وجہ سے شناختی کارڈ کے حصول سے محروم ہیں۔
پاکستان کے قومی شناختی نظام کے تحت تقریباً 98.3 فیصد بالغ افراد کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے۔ تاہم اب بھی تقریباً 1.7 فیصد بالغ افراد رجسٹریشن کے دائرے میں شامل نہیں جن میں بڑی تعداد خواتین اور ایسے علاقوں کے مکینوں کی ہے جہاں پیدائش کے اندراج کی سہولیات محدود ہیں۔
اس خلا کو دور کرنے کے لیے نادرا نے پہلی بار شناختی کارڈ کے اجرا کے لیے ایک خصوصی سہولت متعارف کرائی ہے۔
ایسے پاکستانی جو شناختی کارڈ کے اہل ہیں، مگر ان کے پاس کمپیوٹرائزڈ پیدائشی سرٹیفکیٹ موجود نہیں وہ 31 دسمبر 2026 تک تصدیق کے متبادل طریقہ کار اور خاندان کے رجسٹرڈ افراد کی بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے بھی شناختی کارڈ حاصل کر سکتے ہیں۔
اس کی مزید تفصیلات آپ اس پوڈکاسٹ میں جان سکتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:اس سال میٹرک انگلش کا پرچہ کیسا ہوگا؟ تعلیمی بورڈ نے ماڈل پیپر جاری کر دیا

