Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

پاکستان کا ہر شہری کتنے لاکھ کا مقروض ہے؟

اسلام آباد: پاکستان پر قرضوں کا کل حجم 81 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ پاکستان کا ہر شہری 3 لاکھ 25 ہزار کا مقروض ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں ملک پر بڑھتے ہوئے مقامی و بیرونی قرضوں اور آئی ایم ایف کے پروگراموں پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں حکام کی جانب سے دی گئی بریفنگ نے ملک کی معاشی تصویر کے حوالے سے کئی پریشان کن حقائق سامنے رکھ دیے ہیں۔

وزارتِ خزانہ کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان پر قرضوں کا کل حجم 81 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، اس میں 26 ہزار ارب روپے بیرونی اور 55 ہزار ارب روپے مقامی قرضہ شامل ہے۔

حکام نے بتایا کہ 25 کروڑ کی آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو ہر پاکستانی شہری اس وقت 3 لاکھ 25 ہزار روپے سے زائد کا مقروض ہو چکا ہے۔

اجلاس کے دوران وزارتِ خزانہ کے حکام نے اعتراف کیا کہ جو بھی نیا قرضہ لیا جاتا ہے، اسے سود سمیت واپس کیا جاتا ہے اور درحقیقت نئے قرضوں سے پرانے قرضے ادا کیے جا رہے ہیں۔

حکام کے اس جواب پر کمیٹی ارکان میں قہقہہ بلند ہوا، تاہم چیئرمین کمیٹی نے اس صورتحال کو ملک کے لیے تباہ کن قرار دیا۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا اگر برآمدات بڑھیں تو ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ انہوں نے عراق کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں جنگوں کے باوجود بڑی کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور وہ اب زیادہ تر چیزیں درآمد نہیں کرتا۔

چیئرمین کمیٹی نے ارکانِ اسمبلی کو دیے گئے 50 کروڑ روپے کے فنڈز پر سوال اٹھایا اور کہا کہ 7 دن میں اتنی بڑی رقم خرچ ہونا ناممکن ہے، یہ پیسہ ارکان کی جیبوں سے برآمد ہوگا۔ انہوں نے ارکان کے فنڈز کی حوصلہ شکنی کا مطالبہ بھی کیا۔

سیف اللہ ابڑو نے جذباتی انداز میں کہا کہ “خدا کے واسطے رحم کریں، ملک تباہ ہوتا جا رہا ہے”۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے اور ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے فوری ٹھوس پالیسی بنائی جائے اور قومی خزانے سے 65 ارب روپے لینے والے بینکوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔

کمیٹی نے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ ترقیاتی منصوبوں اور قرضوں کی واپسی کے لیے ایسے اقدامات کرے جس سے عام آدمی پر بوجھ کم ہو سکے اور ملکی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں