Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

کفایت شعاری مہم پر سوالات: وفاقی وزیر کے زیرِ استعمال 11 گاڑیوں کا انکشاف

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ملک میں جاری معاشی ایمرجنسی اور وزیرِ اعظم کی کفایت شعاری مہم کے دعوؤں کے برعکس وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے سامنے آنے والی معلومات نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر کے زیرِ استعمال ایک یا دو نہیں بلکہ 11 سرکاری گاڑیاں موجود ہیں۔

دستاویزات کے مطابق اس بیڑے میں وی آئی پی کلچر کی نمائندہ لینڈ کروزر (GT-049)، تین ٹویوٹا ریوو (GPA-736، GPA-738، GPB-266) اور دو ہائی لکس (GBK-961، GK-743) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ٹویوٹا کرولا کے تین مختلف ماڈلز (WZ-126، GAB-498، GAA-871)، ایک ٹویوٹا یارس (FAA-115) بھی زیرِ استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ مزید برآں سوزوکی کلٹس (GAC-596) اور سوزوکی بولان (GAG-387) بھی اسی فہرست کا حصہ ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا ہے جب وزیرِ اعظم کی جانب سے حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے 60 فیصد سرکاری گاڑیاں گراؤنڈ کرنے اور پیٹرول کے استعمال میں 50 فیصد تک کمی کی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں۔

وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں کفایت شعاری مہم کی مبینہ خلاف ورزی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ وفاقی سیکرٹری اس معاملے پر تاحال خاموش ہیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر خالد مگسی نے اس حوالے سے اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے زیرِ استعمال صرف دو گاڑیاں ہیں، جبکہ باقی گاڑیاں وزارت کے مختلف امور کے لیے مختص ہو سکتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق 11 گاڑیوں کی یہ فہرست حکومتی دعوؤں اور عملی اقدامات میں تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر کفایت شعاری مہم پر واقعی عملدرآمد مقصود ہے تو ایسے معاملات کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔

یہ صورتحال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آیا حکومتی احکامات پر مکمل عمل ہو رہا ہے یا یہ اقدامات محض کاغذی کارروائی تک محدود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں