Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

امریکا ایران مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں تیاریاں، جے ڈی وینس کی آمد مشکوک

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران نے دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کردی ہے، جس کے بعد اب دونوں ممالک کے وفود جمعہ 10 اپریل کو اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات کریں گے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’نیویارک پوسٹ‘ کو انٹرویو میں جے ڈی وینس کے مذاکرات میں شریک نہ ہونے کا عندیہ دیا ہے۔

اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات متوقع ہیں، اہم مذاکرات کی میزبانی ملنے کے بعد وفاقی دارالحکومت سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ شہر کے حساس علاقوں میں نگرانی بڑھانے اور سیکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 9 اور 10 اپریل کو مقامی تعطیل ہوگی۔ یہ فیصلہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی منظوری سے کیا گیا، جس کا مقصد سیکیورٹی انتظامات کو مؤثر بنانا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق تعطیل کے دوران غیر ضروری نقل و حرکت محدود رکھنے اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جب کہ سیکیورٹی ادارے مکمل طور پر متحرک رہیں گے۔


قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز اس اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ایران اور امریکا اپنے اتحادیوں سمیت ہر جگہ فوری جنگ بندی پر راضی ہو گئے ہیں۔ جنہیں حتمی معاہدے کے لیے اسلام آباد آنے کی دعوت دیتا ہوں۔

وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ ایران اور امریکا کے وفود کے درمیان جمعہ کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات خطے میں پائیدار امن کا سبب بنیں گے۔


یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کو بدھ کی صبح تک کی ڈیڈ لائن دی تھی جس کے ختم ہونے سے محض ایک گھنٹہ قبل فریقین نے عارضی جنگ بندی کی پاکستانی تجویز پر اتفاق کیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ امریکا اپنے فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور اب ہم ایک طویل مدتی معاہدے کے بہت قریب ہیں۔


دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر حملے روکے گئے تو ہماری افواج بھی دفاعی کارروائیاں بند کر دیں گی، ہم نے مذاکرات کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا ہے جسے باہمی رضامندی سے بڑھایا جا سکتا ہے۔

ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے واضح کیا ہے کہ اگلے دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز سے جہازوں کا گزرنا ایرانی افواج کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے ممکن ہوگا۔


ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد ڈائیلاگ میں شرکت کے لیے دونوں طرف سے اعلیٰ سطح کے وفود کی آمد متوقع ہے۔

ایرانی نیوز ایجنسی “’اِرنا‘ کے مطابق، امریکا سے مذاکرات میں ایران کی نمائندگی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے جب کہ امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، تاہم صدر ٹرمپ نے جے ڈی وینس کی آمد کو مشکوک قرار دیا ہے۔

امریکی اخبار نیو یارک پوسٹ کو ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ مذاکراتی ٹیم میں اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور جے ڈی وینس ہوں گے تاہم انہوں نے کہا کہ شاید جے ڈی وینس مذاکرات میں شریک نہ سکیں۔

یہ مذاکرات اس لیے بھی اہم ہیں کیوں کہ یہ ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دنیا بھر کی معیشت اور امن داؤ پر لگا ہوا ہے۔

عام آدمی کے لیے یہ خبر اس لیے اہم ہے کیونکہ اگر اسلام آباد میں ہونے والی یہ بیٹھک کامیاب رہتی ہے تو اس سے نہ صرف جنگ کے بادل چھٹ جائیں گے بلکہ پیٹرول اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی استحکام آنے کی توقع ہے۔

ایران نے واضح کیا ہے کہ ان مذاکرات میں ایٹمی پروگرام کے ساتھ ساتھ 45 سال سے عائد امریکی پابندیوں کے خاتمے پر بھی بات ہوگی۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان اہم مذاکرات کے حوالے سے واشنگٹن میں تیاریاں جاری ہیں۔

پاکستان کی اس ثالثی کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے کیونکہ 28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ میں نہ صرف بڑے پیمانے انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا تھا بلکہ اس نے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی کو بھی خطرے میں ڈال دیا تھا۔

اب پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں جہاں جمعہ سے شروع ہونے والی بات چیت اس تباہ کن تنازع کے مستقل خاتمے کی بنیاد بن سکتی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے پیغام میں خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
مزیدپڑھیں:ملک بھر کے بجلی صارفین پر 12 ارب 45 کروڑ کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا

یہ بھی پڑھیں