اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اسلام آباد میں جاری امریکا اور ایران مذاکرات کو عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے، جہاں دنیا بھر کی نظریں اس پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
ذرائع کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں طویل کشیدگی اور حالیہ جنگ کے بعد ہونے والی یہ بات چیت نہ صرف خطے میں امن کے امکانات سے جڑی ہے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کو فیصلہ کن مرحلہ سمجھا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد کی جانب سے مختلف نکات پر مشتمل ایک مجوزہ فریم ورک پیش کیا گیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز سے متعلق امور، اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور بعض سیکیورٹی خدشات کے حل جیسے معاملات شامل ہیں۔
دوسری جانب امریکی مؤقف کے مطابق آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال رکھنے، بحری راستوں کی آزادانہ آمدورفت یقینی بنانے اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سخت نگرانی جیسے نکات پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ ایٹمی صلاحیت کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کی جانب سے مختلف تجاویز پر غور جاری ہے جبکہ حتمی اتفاق رائے تک پہنچنے کے لیے مزید بات چیت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور دیگر علاقائی تنازعات، بشمول لبنان کی صورتحال، مذاکراتی عمل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے سفارتی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کسی بھی معاہدے کے لیے ماحول کو سازگار بنانا ناگزیر ہے۔