ملک میں مقامی پیداوار کے فروغ اور گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کے لیے حکومت نے نئی آٹو پالیسی(Auto Policy) تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، جسے تمام متعلقہ فریقین کی مشاورت سے تیار کیا جائے گا۔
وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان (Haroon Akhtar Khan)کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں نئی آٹو پالیسی کے اہم نکات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آٹو پارٹس کی مقامی سطح پر تیاری کو ترجیح دی جائے تاکہ درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے اور ملکی صنعت کو مضبوط بنایا جا سکے۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت آٹو پارٹس کی ایک جامع فہرست مرتب کر رہی ہے، جنہیں آئندہ پانچ برسوں میں مقامی سطح پر تیار کر کے انہیں مناسب تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نہ صرف مقامی صنعت کو فروغ ملے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
اجلاس میں الیکٹرک وہیکل (ای وی) ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے خصوصی مراعات دینے کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ حکام کے مطابق نئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے پالیسی میں ایسے اقدامات شامل کیے جائیں گے جو مقامی صنعت کو عالمی معیار کے مطابق بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔
مزیدپڑھیں:تحریک انصاف کامردان جلسہ؛ محمود اچکزئی کی عدم شرکت کا امکان
انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صنعت سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا عمل مکمل کرے تاکہ ایک جامع اور مؤثر پالیسی فریم ورک تیار کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق نئی آٹو پالیسی کا مقصد نہ صرف مقامی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے بلکہ گاڑیوں کی قیمتوں کو بھی کم کرنا ہے تاکہ عام شہری کے لیے گاڑی خریدنا آسان ہو سکے۔ ساتھ ہی برآمدات میں اضافہ بھی اس پالیسی کا اہم ہدف ہوگا۔


