Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

جرمنی میں ملازمت کے خواہشمند افرادکے لیے بڑی خبر آگئی

جرمنی(germany) میں ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے تعلیمی اسناد کی درست تصدیق انتہائی اہم مرحلہ قرار دے دیا گیا ہے، جس کے بغیر ویزا اور روزگار کے مواقع حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے جاری رہنمائی میں کہا گیا ہے کہ امیدوار اپنی ڈگریوں اور تعلیمی قابلیت کو جرمنی کے تسلیم شدہ نظام کے مطابق ضرور چیک کریں، کیونکہ یہ عمل درخواست کی منظوری میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

حکام کے مطابق جرمنی میں غیر ملکی تعلیمی اسناد کی جانچ کے لیے انابن ڈیٹا بیس کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جسے سنٹرل آفس فار فارن ایجوکیشن (زیڈ اے بی) برقرار رکھتا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے کسی بھی ادارے اور ڈگری کی حیثیت معلوم کی جا سکتی ہے۔

رہنمائی کے مطابق امیدواروں کو چاہیے کہ وہ اپنی یونیورسٹی اور ڈگری دونوں کی الگ الگ تصدیق کریں۔ کسی تعلیمی ادارے کی مکمل منظوری کے لیے اس کا “ایچ پلس” اسٹیٹس ہونا ضروری ہے، جبکہ بعض صورتوں میں “ایچ پلس مائنس” اسٹیٹس کے تحت مخصوص پروگرامز ہی قابل قبول ہوتے ہیں۔ اسی طرح ڈگری کا جرمن معیار کے مطابق ہونا بھی لازمی شرط ہے۔

ویزہ درخواست کے عمل میں امیدواروں کو انابن سے ادارے اور ڈگری کی حیثیت کے دو الگ پرنٹ آؤٹس جمع کروانا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان سے ڈگری اور ٹرانسکرپٹس کی تصدیق بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔

Germany

مزیدپڑھیں:پی ٹی اے نے شہریوں کو خبردار کر دیا

حکام نے مزید بتایا کہ اگر کسی امیدوار کی ڈگری یا ادارہ انابن ڈیٹا بیس میں موجود نہ ہو تو اسے زیڈ اے بی سے “اسٹیٹمنٹ آف کمپیریبیلٹی” حاصل کرنا ہوگی، جس میں تقریباً تین ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ اسی لیے درخواست دہندگان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بروقت تیاری شروع کریں۔

مزید برآں، جرمنی میں بعض پیشے جیسے طب، قانون اور تدریس ریگولیٹڈ ہوتے ہیں، جن کے لیے علیحدہ لائسنس یا منظوری درکار ہوتی ہے، جبکہ دیگر شعبوں میں عمومی تصدیق کافی ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق تمام تقاضوں کی مکمل اور درست تکمیل نہ صرف درخواست کے عمل کو تیز بناتی ہے بلکہ جرمنی کی لیبر مارکیٹ میں کامیابی کے امکانات کو بھی بڑھا دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں