Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

حکومت کا درآمدی گاڑیوں پر عائد ایڈیشنل کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹی مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ

گاڑیوں کے شوقین افراد کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، وفاقی حکومت نے درآمدی گاڑیوں پر عائد اضافی ٹیکسز میں مرحلہ وار کمی اور بالآخر خاتمے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف گاڑیوں کی قیمتوں میں توازن لانا ہے بلکہ آٹو سیکٹر کو جدید خطوط پر استوار کرنا بھی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت یکم جولائی 2026 سے نئی آٹو سیکٹر پالیسی نافذ کرنے کی تیاریوں کے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ اس سلسلے میں International Monetary Fund کے ساتھ ابتدائی مشاورت بھی جاری ہے تاکہ پالیسی کو عالمی معاشی تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کیا جا سکے۔

نئی پالیسی کے تحت درآمدی گاڑیوں پر عائد ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی کو بتدریج ختم کیا جائے گا۔ منصوبے کے مطابق مالی سال 2027 سے ہر سال ان اضافی ڈیوٹیز میں 10 فیصد کمی کی جائے گی، اور آئندہ چار برسوں میں انہیں مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ کسٹمز ڈیوٹی کی شرحوں میں بھی 2030 تک مرحلہ وار کمی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزیدپڑھیں:شادی میں کھانا کھانے سے 400 افراد کی حالت غیر ، ہسپتال پہنچ گئے

پالیسی میں پرانی گاڑیوں کی درآمد سے متعلق بھی اہم تبدیلیاں شامل ہیں۔ مالی سال 2027 کے بعد سات سال تک پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی جائے گی، تاہم اس کے لیے سخت شرائط رکھی گئی ہیں۔ خاص طور پر پانچ سال سے زائد پرانی گاڑیوں کے لیے بین الاقوامی معیار کے سیفٹی اور ماحولیاتی سرٹیفکیٹس پیش کرنا لازمی ہوگا تاکہ سڑکوں پر محفوظ اور ماحول دوست گاڑیوں کی موجودگی یقینی بنائی جا سکے۔

حکومت مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے بھی سرگرم ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک نیا قانون متعارف کروانے کی تیاری کی جا رہی ہے، جس کے تحت مقامی آٹو انڈسٹری میں عالمی سیفٹی اسٹینڈرڈز کو لازمی قرار دیا جائے گا۔ اس قانون کی منظوری پارلیمنٹ سے لی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی آٹو پالیسی کا مسودہ رواں ماہ مکمل کر کے International Monetary Fund کے ساتھ مزید مشاورت کی جائے گی، جس کے بعد اسے آئندہ ماہ وفاقی کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف صارفین کے لیے سہولت کا باعث بنیں گے بلکہ ملکی آٹو انڈسٹری میں مسابقت اور معیار کو بھی فروغ دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں