وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے شروع کی گئی پٹرول سبسڈی اسکیم(Petrol Subsidy) کے تحت بائیکرز کو اب تک 32 کروڑ روپے سے زائد کی مالی سہولت فراہم کی جاچکی ہے، جس سے شہریوں کو نمایاں ریلیف ملا ہے اور اسکیم کے اثرات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔
محکمہ ایکسائز کے مطابق 6 اپریل سے اب تک ایک لاکھ 5 ہزار سے زائد موٹرسائیکل مالکان اس اسکیم سے فائدہ اٹھا چکے ہیں، جنہیں فی بائیک مخصوص سبسڈی فراہم کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سہولت کے بعد موٹرسائیکل ٹرانسفر کی شرح میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے اور یہ تعداد ڈیڑھ سو فیصد تک بڑھ چکی ہے۔
ڈی جی ایکسائز عمر شیر چٹھہ کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر موٹرسائیکل ٹرانسفر کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں پہلے تقریباً 3 ہزار ٹرانسفر ہوتے تھے، وہیں اب یہ تعداد بڑھ کر 8 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ 85 ہزار کمرشل گاڑیوں کا ڈیٹا بھی سبسڈی کے لیے وفاقی حکومت کو بھجوا دیا گیا ہے، جس میں وہ گاڑیاں شامل ہیں جن کے ٹوکن ٹیکس، روٹ پرمٹ اور دیگر کاغذات مکمل ہیں۔
مزیدپڑھیں:فوجی پائلٹس کو سیلفی کا شوق مہنگا پڑ گیا، دو F-15 لڑاکا طیارے فضا میں ٹکرا گئے
حکام کے مطابق “مریم کو بتائیں” ایپ کے ذریعے رجسٹریشن کروانے والے بائیکرز کی تصدیق کے بعد انہیں 2000 روپے تک سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ شہری 5 مئی تک اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اس دوران موٹرسائیکل ٹرانسفر پر خصوصی رعایت حاصل کرسکتے ہیں۔
محکمہ ایکسائز کا کہنا ہے کہ اندازہ ہے کہ اس اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 70 کروڑ روپے سے زائد کی سبسڈی شہریوں کو فراہم کی جائے گی، جس سے نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ رجسٹریشن اور ٹرانسفر کے عمل میں بھی شفافیت آئے گی۔

