عوام راج پارٹی کے سربراہ اقرار الحسن(Iqrar ul hassan) نےاے بی این نیوز کے پروگرام “تجزیہ” میں تفصیلی گفتگو میں اپنے سیاسی، سماجی اور ذاتی مؤقف کو کھل کر بیان کیا، جس نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی۔
پروگرام کے دوران اقرار الحسن نے گلوکار سے سیاستدان بننے والے جواد احمد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی غیر متزلزل جدوجہد اور کبھی کسی کے سامنے سر نہ جھکانے کی صفت قابل ستائش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر آزادانہ فیصلے کرنے کے باعث جواد احمد نے معاشرے میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے، جبکہ ان کی نجی زندگی اور خاندانی اقدار بھی دوسروں کے لیے مشعل راہ ہیں۔
اقرار الحسن نے حالیہ ائیرپورٹ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے سرکاری اہلکاروں کے کردار پر بھی سخت سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیوٹی کے دوران کسی بھی سرکاری افسر کا سیاسی اظہار رائے دینا یا تعصب پر مبنی جملے بازی کرنا نہ صرف نامناسب بلکہ غیر قانونی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وردی پہن کر ذاتی عناد نکالنا یا شہریوں، خصوصاً اہل خانہ کے سامنے بدتمیزی کرنا ناقابل قبول ہے اور اس سے پورے ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحث کسی اہلکار کی گفتگو کے مواد سے زیادہ اس کے سیاسی تبصرے کے حق پر ہونی چاہیے، کیونکہ عوامی عہدے پر تعینات فرد کو ہر قسم کی سیاسی وابستگی کے اظہار سے دور رہنا چاہیے۔ اقرار الحسن کے مطابق قطاروں میں کھڑے عام شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور سیاسی بنیادوں پر پروٹوکول دینا دیانتداری کے اصولوں کے خلاف ہے۔
اپنی ذاتی حیثیت پر بات کرتے ہوئے اقرار الحسن نے بڑا اعلان کیا کہ وہ کبھی الیکشن نہیں لڑیں گے اور نہ ہی کسی سیاسی عہدے کے امیدوار بنیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ “کبھی ووٹ نہیں مانگوں گا، میری جدوجہد صرف نظریاتی اور فکری تحریک ہے”، اور وہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ عہد کرتے ہیں کہ زندگی میں کوئی سرکاری یا سیاسی عہدہ قبول نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق ان کی تحریک کا مقصد صرف میرٹ اور جمہوریت کی بنیاد پر اہل قیادت کو سامنے لانا اور نظام میں شعوری تبدیلی پیدا کرنا ہے۔
اقرار الحسن نے کہا کہ 25 سال تک عوامی مسائل اجاگر کرنے کے بعد اب اگر وہ اپنی ذات کے لیے آواز بلند کرتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ انہوں نے قانون ہاتھ میں لیا، اور کہا کہ نامناسب رویے کے خلاف آواز اٹھانا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
سیاسی ماحول پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں سیاسی رواداری کو پامال کرنے والے آج برداشت اور قانون کی بات کر رہے ہیں، جو ایک کھلا تضاد ہے۔ انہوں نے بعض حلقوں پر الزام لگایا کہ وہ سیاسی مخالفین کو تضحیک آمیز القابات دیتے رہے ہیں اور اب خود کو قانون کا علمبردار ظاہر کر رہے ہیں۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی جیسے رہنماؤں کے خلاف ماضی میں استعمال ہونے والی نازیبا زبان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے رویے معاشرتی زوال کی عکاسی کرتے ہیں۔
اقرار الحسن نے سوشل میڈیا پر چلنے والے “جھوٹے پروپیگنڈے” کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ اصل مسئلہ شہریوں کے ساتھ ہونے والا ناروا سلوک ہے۔
حکومت کے لئے بڑا ریلیف ! پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی کالعدم دفعات بحال
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تحریک موروثی سیاست اور شخصیت پرستی کے خلاف ہے اور وہ قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی “نام نہاد ریڈ لائن” سے بالاتر ہو کر انصاف اور قانون کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔
گفتگو کے اختتام پر اقرار الحسن نے کہا کہ سڑکوں یا عوامی مقامات پر بدتمیزی کرنے والوں کے خلاف ردعمل دینا ان کا قانونی اور اخلاقی حق ہے، اور ایسے واقعات پر خاموشی اختیار کرنا معاشرتی ناانصافی کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔
یہ گفتگو نہ صرف ایک فرد کے مؤقف کی عکاسی کرتی ہے بلکہ موجودہ سیاسی و سماجی ماحول میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، برداشت کے فقدان اور ادارہ جاتی رویوں پر بھی کئی اہم سوالات اٹھا رہی ہے۔


