Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

حکومت نے ملک میں اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز قائم کرنے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا

وفاقی حکومت نے ملک میں اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز(Strategic Petroleum Reserves) قائم کرنے کے منصوبے پر عملی کام شروع کر دیا ہے، جس کے تحت پاکستان میں 90 دن تک پیٹرول اور ڈیزل کا محفوظ ذخیرہ تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ایندھن کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا اور قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کرنا ہے۔ عالمی سطح پر توانائی کے غیر یقینی حالات اور سپلائی چین کے ممکنہ مسائل کے پیش نظر اس منصوبے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال کو مدنظر رکھا جا رہا ہے، جہاں کسی بھی کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی تیل کی ترسیل اور قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ علاقائی تنازعات اور جنگی ماحول نے عالمی توانائی مارکیٹ کو غیر مستحکم کر دیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

نئی پالیسی کے تحت پیٹرولیم لیوی کے نظام پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ اس بڑے منصوبے کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جا سکیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 20 ارب لیٹر تیل استعمال ہوتا ہے، اور اگر فی لیٹر 10 روپے لیوی عائد کی جائے تو سالانہ 200 ارب روپے تک آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔

عوامی دبائو کام کرگیا،حکومت کالاک ڈائون میں‌جزوی نرمی کافیصلہ

حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ چند سالوں میں یہ آمدن بڑھ کر 600 ارب روپے سے تجاوز کر سکتی ہے، جس سے نہ صرف اسٹریٹجک ذخائر کی تعمیر ممکن ہوگی بلکہ توانائی کے شعبے میں خودمختاری بھی حاصل کی جا سکے گی۔

ماہرین کے مطابق اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز کا قیام پاکستان کے لیے ایک اہم قدم ہوگا، جو ملک کو عالمی منڈی میں قیمتوں کے دباؤ اور سپلائی کے خطرات سے جزوی تحفظ فراہم کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں