سپریم کورٹ کے 2019 کے فیصلے کے بعد متنازعہ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو پروجیکٹ(One Constitution Avenue Project) کی مارکیٹ ویلیو میں نمایاں اضافہ ہوا اور تقریباً 70 نئے اعلیٰ مالیت والے سرمایہ کاروں کو راغب کیا،سابق وزیراعظم عمران خان (Imran Khan)بھی ان سرمایہ کاروں میں شامل تھے تاہم ذرائع نےنجی خبررساں ادارے ڈان کو بتایا کہ کرکٹر سے سیاستدان بننے والے نے اپنا اپارٹمنٹ 2022 میں پہلے ہی فروخت کر دیا تھا اور یہ پراپرٹی اب شاہد نصیر کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔
انگریزی جریدے ڈان کے مطابق مذکورہ عمارت میں اپارٹمنٹس رکھنے والوں میں وزیر تجارت جام کمال خان، سٹیٹ بینک کے سابق گورنر اشرف وتھرا، پیمرا کے سابق چیئرمین اور موجودہ ٹی وی اینکر ابصار عالم، پاکستان کے سابق چیف جسٹس ناصر الملک، لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار حسین چوہدری، سابق نیول چیف محمد آصف سندیلہ، سابق سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر، ٹیلی ویژن کے سابق سربراہ سلمان رفیق، ٹی وی سیلبرٹی فریال گوہر، پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین احسان مانی، سابق وزیر دفاع مرحوم احمد مختار، وزیر دفاع خواجہ آصف کے صاحبزادے خواجہ اسد، سابق ایم این اے کشمالہ طارق، ثاقب برجیس، سابق وفاقی وزیر برجیس طاہر کے صاحبزادے، سی ڈی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل سہیل درانی،ٹی وی اینکر پرسن نسیم زہرہ، سابق چیف لینڈ کمشنر ساجد ہوتیانہ، شہزادی شلالے عباسی اور ڈاکٹر فضیلہ عباسی شامل ہیں۔
گزشتہ ہفتے، سی ڈی اے نے، پولیس کی مدد سے، اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) کے حکم نامے کے بعد پلاٹ کی لیز منسوخ کرنے کے اتھارٹی کے فیصلے کو برقرار رکھنے کے بعد عمارت کو خالی کرانے کی کوشش کی، جو اصل میں ایک فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر کے لیے الاٹ کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں مالک نے شرائط و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رہائشی اپارٹمنٹس بنائےاپارٹمنٹس خالی کرانے کی کوشش کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے مداخلت کرتے ہوئے سی ڈی اے کو آپریشن روکنے کی ہدایت کی، انہوں نے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جس میں کہا گیا کہ حتمی فیصلہ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیا جائے گا۔
