وفاقی حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کو صوبوں کے حوالے کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے، تاہم پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں۔
وفاقی وزیر کھیل داس کوہستانی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد متعدد اختیارات صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں، اس لیے سماجی امداد اور فلاحی پروگراموں سے متعلق مالی ذمہ داریاں بھی صوبائی حکومتوں کو سنبھالنی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض صوبوں کی جانب سے بھی یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ امدادی رقوم کی تقسیم کا اختیار صوبوں کے پاس ہونا چاہیے تاکہ مقامی سطح پر ضرورت مند افراد تک زیادہ مؤثر انداز میں رسائی حاصل کی جا سکے۔
وفاقی وزیر کے مطابق حکومت اس معاملے پر جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرے گی بلکہ اتحادی جماعتوں، سیاسی قیادت اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ہی حتمی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
ایتھوپیا: 12 سال بعد خاتون کے ہاں بیک وقت 5 بچوں کی پیدائش
داس کوہستانی نے واضح کیا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنے کی خبریں درست نہیں ہیں، البتہ اس کے انتظامی اور مالیاتی ڈھانچے میں تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
سیاسی و معاشی حلقوں کے مطابق اگر پروگرام صوبوں کے سپرد کیا جاتا ہے تو اس سے صوبائی حکومتوں کا کردار بڑھ جائے گا، تاہم اس کے لیے فنڈز کی تقسیم، شفافیت اور یکساں پالیسی جیسے معاملات اہم چیلنج بن سکتے ہیں۔


