کراچی: منشیات کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف ’’پنکی‘‘ سے منسوب مبینہ آڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جبکہ پولیس اور تحقیقاتی اداروں کی جانب سے معاملے کی مزید چھان بین شروع کر دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی آڈیو میں مبینہ طور پر ملزمہ انمول کو پولیس کارروائیوں اور اپنی گرفتاری سے متعلق دعوؤں پر سخت اور طنزیہ انداز میں گفتگو کرتے سنا جا سکتا ہے۔ آڈیو میں وہ کہتی ہے کہ کئی سال سے اس کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں مگر اب تک اسے گرفتار نہیں کیا جا سکا۔
مبینہ ریکارڈنگ میں وہ مزید دعویٰ کرتی ہے کہ بعض ادارے طویل عرصے سے اس کے پیچھے ہیں، لیکن وہ مختلف طریقوں سے سرگرم رہتی رہی ہے۔ آڈیو کے ایک حصے میں وہ طنزیہ انداز میں یہ بھی کہتی ہے کہ اگر لوگ درست طریقے سے سوچیں تو وہ بھی اپنی شناخت بنا سکتے ہیں، جبکہ پولیس کی کوششوں پر بھی تنقیدی جملے سنائی دیتے ہیں۔
یہ آڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، تاہم پولیس حکام نے اس کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی۔
دوسری جانب کراچی میں منشیات برآمدگی اور غیر قانونی اسلحہ کیس میں گرفتار انمول کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم جاری کیا۔
پٹرول 300 روپے فی لیٹر ؟سینیٹر دنیش کمار نے حکومت کو تجویز پیش کر دی
اس موقع پر ملزمہ کو بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش کیے جانے پر اعلیٰ پولیس حکام نے سخت نوٹس لیا ہے۔ کراچی پولیس چیف نے واقعے کی فوری انکوائری کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کی جانچ کی جائے گی کہ ملزمہ کو عدالت میں پیشی کے دوران سکیورٹی پروٹوکول پر مکمل عمل کیوں نہیں کیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے سینئر افسران پر مشتمل ایک انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، جو تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔ متعلقہ اہلکاروں کو گارڈن ہیڈکوارٹر ساؤتھ رپورٹ کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر انکوائری میں کسی قسم کی غفلت، ضابطہ خلاف ورزی یا لاپرواہی ثابت ہوئی تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پولیس ذرائع کے مطابق کیس کی تفتیش جاری ہے اور ملزمہ کے مبینہ نیٹ ورک، مالی ذرائع اور ممکنہ رابطوں کی بھی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔