Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

نئے مالی سال میں پیٹرولیم لیوی کا مزید بوجھ شہریوں پر پڑنے کا امکان

نئے مالی سال میں پیٹرولیم لیوی کا مزید بوجھ شہریوں پر پڑنے کا امکان

حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں ریکارڈ وصولیوں کا تخمینہ لگایا ہے۔ آئی ایم ایف کی تازہ اسٹاف کنٹری رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 میں پیٹرولیم لیوی سے ایک ہزار 727 ارب روپے حاصل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق یہ رقم رواں مالی سال کی متوقع وصولیوں سے 181 ارب روپے زیادہ ہے جبکہ موجودہ ہدف کے مقابلے میں 259 ارب روپے اضافی بنتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اگلے مالی سال کے لیے باضابطہ ہدف تقریباً ایک ہزار 638 ارب روپے مقرر کر سکتی ہے، تاہم اصل وصولیاں اس سے بھی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے اختتام تک پیٹرولیم لیوی کی وصولی ایک ہزار 546 ارب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو پہلے سے مقررہ ہدف سے 78 ارب روپے زیادہ ہے۔ صرف پہلے نو ماہ کے دوران حکومت ایک ہزار 205 ارب روپے سے زائد وصول کر چکی ہے۔

حکومت نے حالیہ دنوں میں پیٹرول پر لیوی میں 13 روپے 91 پیسے اضافہ کیا جس کے بعد فی لیٹر لیوی 117 روپے 41 پیسے تک پہنچ گئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر یہ رقم 42 روپے 60 پیسے مقرر کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق پیٹرولیم لیوی حکومت کے لیے نان ٹیکس آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے کیونکہ یہ مکمل طور پر وفاق کے پاس رہتی ہے۔ اس کے برعکس ایف بی آر کی ٹیکس آمدنی کا بڑا حصہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو منتقل کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران کاربن لیوی سے بھی اربوں روپے وصول کیے گئے جبکہ آئی ایم ایف کی شرائط پر پیٹرول اور ڈیزل پر کلائمٹ سپورٹ لیوی بھی نافذ کی جا چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں