پاکستان نے توانائی بحران پر قابو پانے اور سرحدی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بہتر بنانے کیلئے اہم قدم اٹھاتے ہوئے ایران سے بجلی درآمد بڑھانے کی منظوری دے دی ہے۔ وفاقی حکومت کی درخواست پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ایران سے اضافی 100 میگاواٹ بجلی خریدنے کی اجازت دے دی۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال اور ملک میں بڑھتی توانائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ نیپرا نے موجودہ 104 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کے ٹیرف کی منظوری بھی برقرار رکھی ہے جبکہ فیصلہ نوٹیفکیشن کیلئے وفاقی حکومت کو بھجوا دیا گیا ہے۔
نیپرا کے مطابق ایرانی سپلائرز کو ادائیگی امریکی ڈالر میں کی جائے گی اور ٹیرف کو اوپیک خام تیل کی باسکٹ قیمت سے منسلک رکھا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سرحدی علاقوں میں بجلی کی فراہمی مزید مستحکم ہوگی۔
ایران سے بجلی درآمد کے نئے منصوبے کے تحت اضافی 100 میگاواٹ بجلی کیلئے ماہانہ ڈیڑھ کروڑ کلوواٹ آور کی ٹیک آر پے شق کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بجلی فراہمی کے معاہدے میں ترامیم نمبر 7، 8 اور 9 کی منظوری بھی دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے نیپرا میں درخواست دائر کرتے ہوئے ایرانی کمپنی توانیر سے اضافی بجلی درآمد کیلئے ٹیرف منظوری طلب کی تھی۔ درخواست میں بجلی فراہمی اور ٹیرف ڈھانچے میں تبدیلیوں کی تفصیلات بھی شامل تھیں۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران سے اضافی بجلی کی درآمد سے بلوچستان اور دیگر سرحدی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے مسائل میں کمی آنے کی توقع ہے۔