Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

قومی اسمبلی اے آئی نظام کا آغاز، پارلیمان میں نئی ڈیجیٹل تبدیلی

قومی اسمبلی اے آئی نظام

اسلام آباد میں قومی اسمبلی اے آئی نظام کا باضابطہ اجرا کر دیا گیا، جسے پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں جدید ٹیکنالوجی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اس جدید نظام کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے اور اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ماضی میں روایتی فائل سسٹم کے باعث کئی امور میں تاخیر ہوتی تھی، تاہم اب ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کام میں شفافیت اور رفتار دونوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کو مرحلہ وار مکمل پیپر لیس بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بجٹ دستاویزات کو بھی جلد مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر منتقل کیا جائے گا تاکہ اراکین اسمبلی کو جدید سہولیات میسر آ سکیں۔ سردار ایاز صادق کے مطابق اراکین اسمبلی بھی پارلیمانی کارروائی میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھرپور دلچسپی رکھتے ہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے وزارت آئی ٹی اور این آئی ٹی بی کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی اے آئی نظام پارلیمانی امور، قانون سازی اور دستاویزات کے انتظام میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق مصنوعی ذہانت کا استعمال اب ناگزیر ہو چکا ہے اور پاکستان کو بھی ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ چلنے کے لیے ٹیکنالوجی اپنانا ہوگی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ قومی اسمبلی میں جدید ڈیٹا سینٹر کے قیام کے لیے بھی بجٹ مختص کیا جا رہا ہے جبکہ آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ کے عملے کی تربیت کے لیے خصوصی پروگرامز جاری ہیں۔ اسپیکر کے مطابق گزشتہ روز قومی اسمبلی میں پہلی بار مکمل پیپر لیس ماحول میں کارروائی کا انعقاد ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوا۔

پارلیمانی حلقوں میں اس اقدام کو پاکستان کی ڈیجیٹل گورننس کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف قانون سازی کے عمل میں آسانی ہوگی بلکہ سرکاری امور میں شفافیت اور کارکردگی بھی بہتر ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں