اسلام آباد: مسلم کانفرنس اور متحدہ علماء کونسل اتحاد کے اعلان نے آزاد کشمیر کی سیاسی فضا میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان اور متحدہ علماء کونسل کے چیئرمین مفتی محمد وسیم رضا نے آئندہ انتخابات مشترکہ طور پر لڑنے کا اعلان کیا۔
سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ آزاد کشمیر میں انتخابی سرگرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے اور موجودہ سیاسی حالات کے پیش نظر انتخابی اتحاد وقت کی ضرورت بن چکا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جموں، وادی کشمیر اور مہاجرین کے حلقوں میں دونوں جماعتیں مشترکہ امیدواروں کی حمایت کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر ہمیشہ مذہبی رواداری، بھائی چارے اور اسلامی تشخص کی علامت رہا ہے جبکہ مسلم کانفرنس نے ہر دور میں نظریہ پاکستان اور ختم نبوتؐ کے تحفظ کے لیے کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ علماء و مشائخ ہمیشہ قومی اور دینی معاملات میں صفِ اول میں رہے ہیں۔
مہاجرین کے ووٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سردار عتیق احمد خان نے واضح کیا کہ مہاجرین تحریک آزادی کشمیر کا اہم حصہ ہیں اور ان کے ووٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین کے حلقے مسئلہ کشمیر کی حقیقی نمائندگی کرتے ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب بھی اسٹیبلشمنٹ کی نگرانی میں انتخابات ہوئے، دھاندلی کے الزامات سامنے نہیں آئے۔ ان کے اس بیان پر سیاسی حلقوں میں مختلف ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔
متحدہ علماء کونسل کے چیئرمین مفتی محمد وسیم رضا نے کہا کہ علماء و مشائخ نے ہمیشہ نظریہ پاکستان، ناموس رسالتؐ اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مختلف مذہبی جماعتیں، خانقاہیں اور اہل سنت کی شخصیات بھی اس اتحاد کا حصہ بن رہی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مسلم کانفرنس اور متحدہ علماء کونسل اتحاد آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات میں اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے اور اس سے سیاسی صف بندی میں واضح تبدیلی متوقع ہے۔
رپورٹر رضوان عباسی
