کراچی: عیدالاضحیٰ قریب آتے ہی ملک بھر میں مویشی منڈیوں کی رونقیں عروج پر پہنچ جاتی ہیں، لیکن اس خوشی اور جوش کے دوران اکثر ایک اہم پہلو نظر انداز ہو جاتا ہے، اور وہ ہے عیدالاضحیٰ قربانی جانوروں کی حفاظت اور ان کے ساتھ مناسب رویہ۔
ہر سال عید سے پہلے سڑکوں پر بکرے، گائیں، بیل اور اونٹ مختلف گاڑیوں میں گھروں کی طرف منتقل کیے جاتے ہیں۔ کہیں موٹر سائیکل پر بکرا بٹھایا جاتا ہے تو کہیں بڑے جانوروں کو کھلے ٹرکوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جاتا ہے۔ یہ مناظر بظاہر دلچسپ لگتے ہیں، مگر جانوروں کے لیے یہ سفر اکثر خوف، گرمی اور ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔
ماہرین کے مطابق قربانی کے جانور شور، ہجوم اور غیر مانوس ماحول کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ تیز ہارن، لوگوں کا شور اور ہجوم جانوروں میں خوف پیدا کرتا ہے، جس کے باعث وہ بے قابو ہو کر بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال عید کے دوران جانوروں سے متعلق حادثات بھی سامنے آتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں بھی جانوروں کے ساتھ حسن سلوک پر خاص زور دیا گیا ہے۔ قربانی کے جانوروں کو پانی پلانا، انہیں آرام دینا اور غیر ضروری تکلیف سے بچانا دینی اور اخلاقی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ قربانی جانوروں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ انہیں مناسب خوراک دی جائے، زیادہ ہجوم سے دور رکھا جائے اور تصویریں لیتے وقت فلیش لائٹ یا شور شرابے سے گریز کیا جائے۔ بچوں اور بڑوں کو بھی چاہیے کہ جانوروں کو دوڑانے یا ڈرانے کے بجائے نرمی سے پیش آئیں۔
شہریوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ قربانی کے جانوروں کو انسانی خوراک جیسے چپس، بسکٹ یا پلاسٹک وغیرہ نہ کھلائیں کیونکہ اس سے ان کی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔ جانوروں کے لیے خشک گھاس، چارہ اور پانی بہترین غذا تصور کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جانوروں کے ساتھ اچھا رویہ نہ صرف اسلامی اقدار کی عکاسی کرتا ہے بلکہ عید کے دوران حادثات اور نقصان سے بچنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔