اسلام آباد: تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس ریلیف سے متعلق اہم تجاویز سامنے آگئی ہیں جن کے تحت آئندہ وفاقی بجٹ میں مختلف شعبوں کو نمایاں ریلیف دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
اقتصادی پالیسی اور بزنس ڈویلپمنٹ نامی تھنک ٹینک نے حکومت کو اپنی بجٹ تجاویز پیش کر دی ہیں۔ ان سفارشات میں خاص طور پر تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس ریلیف کی تجویز دی گئی ہے، جس کے مطابق موجودہ 35 فیصد ٹیکس شرح کو کم کرکے 20 فیصد تک لانے کی سفارش کی گئی ہے۔
تجاویز میں غیر تنخواہ دار افراد کے لیے بھی بڑی رعایت تجویز کی گئی ہے۔ سفارشات کے مطابق اس طبقے پر عائد 45 فیصد ٹیکس شرح کو کم کرکے 25 فیصد کیا جائے۔ اسی طرح کارپوریٹ سیکٹر کیلئے ٹیکس کی شرح 29 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
تھنک ٹینک نے ماہانہ 80 ہزار روپے تک آمدن رکھنے والے افراد کو مکمل ٹیکس استثنیٰ دینے کی سفارش بھی کی ہے تاکہ کم آمدن والے طبقے پر مالی دباؤ کم کیا جا سکے۔
معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے سیلز ٹیکس کو بھی آئندہ تین سال میں مرحلہ وار 18 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد تک لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کیلئے دکانداروں، تاجروں اور مختلف کاروباری شعبوں کو ٹیکس نظام میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
رئیل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے بھی بڑی سہولت تجویز کی گئی ہے، جس کے تحت ٹیکس شرح کو 5.5 فیصد سے کم کرکے 0.5 فیصد تک لانے کی سفارش سامنے آئی ہے۔
تجاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سو فیصد سرمایہ کاری کرنے والے صنعتکاروں سے آمدن کے ذرائع کے بارے میں سوال نہ کیا جائے جبکہ بیرون ملک سے ترسیلات زر بھیجنے والوں اور سرمایہ کاروں کیلئے خصوصی مراعات متعارف کرائی جائیں۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ان تجاویز پر عمل کرتی ہے تو ملک میں سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں اور معاشی ترقی کی رفتار میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔