Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

امریکی ٹیرف تجویز پر پاکستان کیلئے اچھی خبر، تجارتی خطرات کم ہونے کا امکان

اسلام آباد: امریکی ٹیرف تجویز کے حوالے سے سامنے آنے والی نئی پیش رفت پاکستان کیلئے حوصلہ افزا ثابت ہو سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ بعض ممالک پر اضافی محصولات عائد کرنے پر غور کر رہا ہے، تاہم پاکستان کی حالیہ تجارتی پالیسی اس ممکنہ اقدام کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام ایسے ممالک کے خلاف 10 سے 12.5 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کی تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں جو جبری مشقت کے ذریعے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد نہیں کرتے یا اس حوالے سے مؤثر اقدامات نہیں کرتے۔

اس صورتحال میں پاکستان کا حالیہ فیصلہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ حکومت پاکستان نے 28 اپریل 2026 کو باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے جبری مشقت سے تیار یا پیدا کی گئی اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کر دی تھی۔

وزارت تجارت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایسی تمام مصنوعات، جو مکمل یا جزوی طور پر جبری مشقت کے ذریعے تیار کی گئی ہوں، پاکستان میں درآمد نہیں کی جا سکیں گی۔ اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی تجارتی اصولوں اور انسانی حقوق کے عالمی معیارات سے ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

امریکی ٹیرف تجویز کے تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ بروقت فیصلہ مستقبل میں ممکنہ تجارتی پابندیوں یا اضافی محصولات کے خطرات کو کم کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ اقدام پاکستان کی عالمی تجارتی ساکھ بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

نوٹیفکیشن کے تحت وفاقی حکومت عالمی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے رہنما اصولوں اور معیار کے مطابق متعلقہ مصنوعات، اداروں اور ممالک کی نشاندہی کرے گی تاکہ قانون پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

تجارتی ماہرین کے مطابق اگر پاکستان اسی طرز کی اصلاحات جاری رکھتا ہے تو امریکی اور دیگر عالمی منڈیوں تک رسائی مزید بہتر ہو سکتی ہے، جس سے ملکی برآمدات کو بھی فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں