اسلام آباد: پیپلز پارٹی اور حکومت مذاکرات آئندہ مالی سال کے بجٹ اور اہم مالیاتی معاملات کے تناظر میں انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان جلد اہم مشاورت متوقع ہے جس میں کسٹم ڈیوٹی، این ایف سی ایوارڈ اور مالیاتی امور سے متعلق مختلف تجاویز زیر غور آئیں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کسٹم ڈیوٹی کو قومی مالیاتی کمیشن (NFC) ایوارڈ سے الگ کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ وفاق کا مؤقف ہے کہ کسٹم ڈیوٹی کو قومی محصولات کے بجائے وفاقی حکومت کی آمدن تصور کیا جانا چاہیے تاکہ قرضوں کی ادائیگی اور دیگر مالی ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے۔
حکومتی حلقوں کے مطابق اس معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی جائے گی۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ اگر کسٹم ڈیوٹی کو این ایف سی ایوارڈ سے الگ بھی کیا جاتا ہے تو صوبوں کا مجموعی حصہ 57.5 فیصد برقرار رکھا جائے گا اور صوبائی حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تقریباً 1700 ارب روپے کی کسٹم ڈیوٹی وفاق کے پاس رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔ حکومتی مؤقف ہے کہ اس رقم کو قومی قرضوں کی ادائیگی اور معاشی استحکام کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی اور حکومت مذاکرات اس لیے بھی اہم قرار دیے جا رہے ہیں کیونکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے صوبوں سے تقریباً 2000 ارب روپے سرپلس پیدا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس صورتحال میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی ہم آہنگی ناگزیر ہو گئی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سندھ اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہونے کے باعث آئندہ دنوں میں دونوں فریقین کے درمیان مزید مشاورت اور اہم فیصلوں کا امکان موجود ہے، جو آئندہ بجٹ کی سمت متعین کر سکتے ہیں۔




