Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

مولانا فضل الرحمان کا پیپلز پارٹی پر سخت تنقیدی حملہ

پشین: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بلوچستان کے ضلع پشین میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ آیا موجودہ قیادت واقعی ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی نظریات پر عمل پیرا ہے یا نہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کا متفقہ آئین شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں تشکیل پایا تھا، تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ آج اسی آئین کو کمزور کرنے اور صوبوں کے حقوق محدود کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں پیپلز پارٹی کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی 18ویں آئینی ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ کی بات کی جاتی ہے تو پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح نظر نہیں آتا۔ مولانا فضل الرحمان نے استفسار کیا کہ اگر صوبوں کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں تو پیپلز پارٹی اس معاملے پر کھل کر آواز کیوں نہیں اٹھا رہی۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ ان کی جماعت ہمیشہ صوبوں کے آئینی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ آئین پاکستان اور صوبائی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ جمعیت علمائے اسلام ملک کے آئین کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی کو بھی عوامی حقوق سلب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سیاسی حلقوں کے مطابق مولانا فضل الرحمان کا یہ بیان آئندہ بجٹ اور سیاسی مشاورت کے تناظر میں اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں وفاق اور صوبوں کے اختیارات سے متعلق مختلف معاملات زیر بحث ہیں۔

یہ بھی پڑھیں