Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

قومی اسمبلی میں بجٹ پر گرما گرم بحث

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ پر بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا، جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان نے معیشت، مہنگائی، ٹیکسوں اور عوامی مسائل پر اپنے مؤقف پیش کیے۔

قومی اسمبلی بجٹ بحث کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عام آدمی کو ریلیف دینے کے بجائے ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے غربت کی لکیر کے تعین کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک طرف اسلام آباد میں سموسہ 40 روپے کا فروخت ہو رہا ہے جبکہ دوسری جانب نوجوان کی یومیہ آمدنی 32 روپے ظاہر کی جا رہی ہے۔

رکن قومی اسمبلی جمال خان کاکڑ نے بجٹ کو موجودہ حالات میں بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جو حکومت کی اہم کامیابی ہے۔ انہوں نے بلوچستان کے لیے مزید فنڈز مختص کرنے اور کوئٹہ میں پانی کے مسئلے کے حل کا مطالبہ بھی کیا۔

تحریک انصاف کے رکن شاہد خٹک نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مہنگائی، بجلی و گیس کے بلوں اور سیاسی معاملات پر اعتراضات اٹھائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

پیپلزپارٹی کے حسین طارق نے ایف بی آر کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹیکس وصولیوں کے اہداف مسلسل پورے نہیں ہو رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بجٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مشکل معاشی حالات میں معیشت کو استحکام دیا ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے اور مڈل کلاس کے لیے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر کوئی اضافی ٹیکس نہیں رکھا گیا۔

اپوزیشن رہنما اسد قیصر نے بجٹ کو آئی ایم ایف کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں بے روزگاری اور معاشی مسائل بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے انتخابی اور سیاسی معاملات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے اپنی تقریر میں پی ٹی آئی دور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ماضی میں اپوزیشن کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ بجٹ پر بحث حقائق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔

اسی دوران عامر ڈوگر نے پٹرولیم لیوی، مہنگائی اور جنوبی پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے حکومت سے سوالات اٹھائے اور زرعی شعبے کے لیے خصوصی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

قومی اسمبلی بجٹ بحث کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے معیشت، مہنگائی، ٹیکس اصلاحات اور سیاسی صورتحال پر اپنے اپنے مؤقف پیش کیے، جبکہ بجٹ پر مزید بحث آئندہ اجلاسوں میں بھی جاری رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں