اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ بجٹ بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ عام آدمی، مزدوروں، خواتین اور کاروباری طبقے کو ریلیف دینے کے مقصد سے تیار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ تک کسی بھی ملازم پر انکم ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ جن افراد کی ماہانہ آمدن 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے کے درمیان ہے، ان پر صرف ایک فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ معاشی حالات میں اس سے بہتر بجٹ دینا ممکن نہیں تھا۔
وفاقی وزیر کے مطابق حکومت نے کاروباری برادری کے لیے بھی متعدد سہولتیں متعارف کرائی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سپر ٹیکس میں کمی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ دکانداروں کو مشاورت کے بعد ٹیکس نیٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
عطا تارڑ بجٹ بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ صرف اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے عملی ریلیف فراہم کرنے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے اور عوامی مشکلات کم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
جماعت اسلامی کے تحفظات کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ جماعت اسلامی ان کی سیاسی حلیف جماعتوں میں شامل ہے اور اگر انہیں بجٹ پر اعتراضات ہیں تو وہ متبادل تجاویز یا شیڈو بجٹ پیش کریں، حکومت ان کی سفارشات پر غور کرے گی۔
آزاد کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ انتخابات کے انعقاد یا مؤخر کرنے کا فیصلہ تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ہونا چاہیے تاکہ اتفاق رائے کی فضا قائم رہے۔
انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے سفارتی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو سراہا جا رہا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف سمیت قومی قیادت کی کوششوں کو مثبت انداز میں دیکھا گیا ہے۔



