Search
Close this search box.
پیر ,15 جون ,2026ء

وفاقی قرضے 26 ماہ میں 17 ہزار ارب روپے بڑھ گئے

اسلام آباد: موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد گزشتہ 26 ماہ کے دوران وفاقی قرضے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2024 سے اپریل 2026 تک وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں میں 17 ہزار 120 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

دستاویزات کے مطابق فروری 2024 میں، جو نگران حکومت کا آخری مہینہ تھا، وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں کا حجم 64 ہزار 810 ارب روپے تھا۔ تاہم اپریل 2026 تک یہ رقم بڑھ کر 81 ہزار 930 ارب روپے تک پہنچ گئی۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس عرصے کے دوران سب سے زیادہ اضافہ مقامی قرضوں میں ہوا۔ فروری 2024 میں حکومت کے مقامی قرضے 42 ہزار 675 ارب روپے تھے جو اپریل 2026 تک بڑھ کر 58 ہزار 89 ارب روپے تک جا پہنچے۔ اس طرح مقامی قرضوں میں مجموعی طور پر 15 ہزار 414 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

دوسری جانب بیرونی قرضوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم اس کی شرح نسبتاً کم رہی۔ دستاویزات کے مطابق فروری 2024 میں بیرونی قرضوں کا حجم 22 ہزار 134 ارب روپے تھا جو اپریل 2026 میں بڑھ کر 23 ہزار 841 ارب روپے ہوگیا۔ یوں بیرونی قرضوں میں ایک ہزار 706 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

وفاقی قرضے کے حوالے سے دستیاب اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مجموعی اضافے کا بڑا حصہ مقامی ذرائع سے حاصل کیے گئے قرضوں پر مشتمل ہے، جبکہ بیرونی قرضوں میں محدود اضافہ سامنے آیا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق حکومتی اخراجات، مالیاتی ضروریات اور قرضوں کی ادائیگیوں کے دباؤ کے باعث قرضوں کے حجم میں مسلسل اضافہ ایک اہم معاشی چیلنج بن چکا ہے۔ تاہم قرضوں کے اثرات اور ان کے استعمال کی تفصیلات کا جائزہ بجٹ اور معاشی پالیسیوں کے تناظر میں لیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں