کراچی: سندھ بجٹ 2026-27 بدھ 17 جون کو سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جس کے لیے محکمہ خزانہ نے تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نئے مالی سال کا بجٹ ایوان میں پیش کریں گے۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ بجٹ 2026-27 میں مالی نظم و ضبط کو مدنظر رکھتے ہوئے اخراجات اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ کا مجموعی حجم موجودہ مالی سال کے مقابلے میں کم رکھا جا سکتا ہے۔
رواں مالی سال 2025-26 کے بجٹ کا کل حجم تقریباً 3400 ارب روپے تھا، تاہم نئے بجٹ میں وسائل اور مالی ضروریات کو دیکھتے ہوئے حجم میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق کراچی کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے مختص فنڈز میں کسی بڑی کٹوتی کی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ شہر کے اہم انفراسٹرکچر اور عوامی فلاحی منصوبوں پر کام کی رفتار برقرار رکھی جائے تاکہ جاری ترقیاتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
دوسری جانب صوبے کے مجموعی ترقیاتی بجٹ میں 15 سے 20 فیصد تک کمی کی تجویز سامنے آئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجویز منظور ہوتی ہے تو ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات ازسرنو ترتیب دی جا سکتی ہیں۔
سندھ کے نئے بجٹ میں تعلیم، صحت، بلدیاتی سہولیات، انفراسٹرکچر اور سماجی بہبود کے منصوبوں کے لیے مختص فنڈز پر بھی خصوصی توجہ دیے جانے کا امکان ہے۔ کاروباری حلقے، سرکاری ملازمین اور عوام بجٹ میں ممکنہ ریلیف اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات کے منتظر ہیں۔
