راولاکوٹ (نیوزڈیسک) میڈیا رپورٹس کے مطابق راولاکوٹ جیل سے20 قیدی فرار ہو گئے۔ قیدی مرکزی گیٹ سے فرار ہوئے،گیٹ پر کھڑے پولیس اہلکار پر پستول تان کر اسے یرغمال بنایا لیا ۔ مقامی ذرائع کے مطابق غازی شہزاد نامی ملزم بھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق 15 قیدی فرار ہوگئے تاہم سوشل میڈیا پر اکثریت 20 قیدیوں کے فرار ہونے کی اطلاعات دے رہے ہیں جبکہ پولیس اور ملزمان کے درمیان کراس فائرنگ کی بھی اطلاعات ہیں، ایک قیدی ہاتھا پائی کے دوران گولی لگنے سے زخمی،ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
تاہم راوالاکوٹ پولیس سے رابطہ کرنے پر کوئی بھی واضع موقف سامنے نہیں آیا تاہم اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ جیل سے قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں. راولاکوٹ ڈسٹرکٹ جیل پونچھ سے 20 قیدی فرار، شہر بھر میں ناکہ بندی۔راولاکوٹ شہر کے وسط میں موجود ڈسٹرکٹ جیل پونچھ سے 20 قیدی دن دیہاڑے فرار ہو گئے۔ ان قیدیوں میں دہشتگردی، قتل، اقدام قتل اور منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار ملزمان شامل ہیں۔
راولاکوٹ شہر میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے، ڈی ایس پی سردار طارق کے ہمراہ پولیس، انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کی بھاری نفری جیل میں معاملہ کی تحقیقات کےلئے موجود ہے۔یہ واقعہ اتوار کے روز دن میں اس وقت پیش آیا جب ذرائع کے مطابق جیل سنتری قیدیوں کو بیرکوں سے باہر نکالنے کےلئے دروازہ کھولنے گیا۔ چند قیدی پہلے سے مرچیں لئے تیار تھے، جو سنتری کی آنکھوں میں مرچیں ڈال کر باآسانی فرار ہوگئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قیدیوں نے سنتری کی بندوق چھین کر فائرنگ بھی کی، تاہم پولیس ذرائع نے فائرنگ کی بات کی تصدیق نہیں کی ہے۔
فرار ہونے والے قیدیوں میں دہشتگردی کے الزام میں قید غازی شہزاد، عثمان اور بیت اللہ شامل، قتل کے الزام میں قید تعماز، سفیر، ثقلین، سہیل رشید، آصف دل محمد، فیصل حمید، ثاقب مجید اور اسامہ شامل ہیں۔ دیگر فرار ہونے والے قیدیوں میں شاہ میر، ناصر، خیام، مقرم فیصل، عامر عبداللہ، ساجد نصیر، فیضان، نعمان، شبیر شامل ہیں۔پولیس اور جیل انتظامیہ نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی وضاحت جاری نہیں کی ہے۔




