Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

مظفرآباد،صدارتی آرڈیننس پر مذاکرات تعطل کا شکار، اسلام آباد کی جانب مارچ کی دھمکی

مظفرآباد(نیوز ڈیسک)آزاد جموں و کشمیر میں شہری تنظیموں کے اتحاد جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے اے سی) نے اعلان کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد وہ ہفتہ کو علاقے کے داخلی راستوں کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔نجی اخبارکی رپورٹ کے مطابق متنازع صدارتی آرڈیننس کی منسوخی کے لیے شہری تنظیموں کے اتحاد کی کال پر مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال نے جمعرات کو آزاد جموں و کشمیر کو مفلوج کر دیا۔

آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے رات گئے مظفر آباد میں جے کے جے اے اے سی کی کور کمیٹی کے ساتھ ابتدائی مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی جس پر مظاہرین نے پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔جمعہ کو پورے خطے میں جزوی اور پرامن ہڑتال کی گئی، اس دوران سڑکوں پر پرائیوٹ ٹرانسپورٹ بھی نہ ہونے کے برابر تھی تاہم خطے کے اہم اور مرکزی راستوں پر ٹریفک مکمل معطل رہی اور شہری علاقوں میں کاروبار بھی مکمل بند رہا۔جمعہ کی نماز کے بعد جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر نے مظفرآباد کے اپر اڈہ کے لال چوک پر سینکڑوں افراد سے خطاب میں مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں خطے کے داخلی راستوں تک لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ مظفر آباد ڈویژن سے مارچ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کی سرحد سے متصل برار کوٹ تک جائے گا جب کہ پونچھ ڈویژن میں مارچ کوہالہ (باغ ایبٹ آباد سرحد)، ٹین ڈھل کوٹ اور آزاد پتن کی طرف جائیں گے، جو پونچھ اور سدھنوتی اضلاع کو راولپنڈی سے جوڑتے ہیں۔شوکت میر نے تاجروں کو ہفتہ کی صبح 11 بجے تک اپنی دکانیں کھولنے کی اجازت دی ، جس سے رہائشیوں کو لاک ڈاؤن شروع ہونے سے پہلے ضروری خریداری کرنے کا موقع ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت حراست میں لیے گئے کارکنوں کو رہا نہ کرنے اور ’کالا قانون‘ منسوخ نہ کرنے پر بضد ہے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ اقدامات خطے میں بدامنی پیدا کرنے کے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس غلط فہمی میں ہے کہ عوام تھک چکے ہیں اور اب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت نہیں کریں گے تاہم انہیں نہیں پتہ کہ اس پلیٹ فارم نے عوام کو ان کے حقوق کے بارے میں بیداری پیدا کرکے اور انہیں صحیح اور غلط میں فرق کرنے کے قابل بنا کر بااختیار بنایا ہے۔

عمران خان کی سول نافرمانی کی کال قابل عمل نہیں، پی ٹی آئی قیادت پیچھے ہٹ گئی

یہ بھی پڑھیں