مظفرآباد :جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومتِ پاکستان کے وزیر برائے امور کشمیر امیر مقام کے کردار پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کی موجودگی میں آئندہ مذاکراتی عمل کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے مشاورتی اجلاس کے بعد چیف سیکرٹری آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کو ایک تفصیلی مراسلہ ارسال کیا گیا ہے، جس میں 4 اکتوبر 2025 کے معاہدے پر عملدرآمد کی صورتحال اور مذاکراتی عمل میں پیش رفت نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
لانگ مارچ اور دھرنے کا حوالہ
مکتوب میں کہا گیا ہے کہ 9 جون کو مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ اور اسمبلی کے باہر دھرنے کی کال پہلے ہی دی جا چکی ہے، تاہم اس کے باوجود کمیٹی 31 مئی تک مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
وزیر امور کشمیر پر سنگین الزامات
خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ امیر مقام کی جانب سے Implementation Committee کی سربراہی کے دوران ایسے اقدامات سامنے آئے جن سے مذاکراتی عمل متاثر ہوا۔
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے بشریٰ بی بی سے فیملی اور ذاتی معالج کی ملاقات کی درخواست مسترد کردی
مراسلے میں الزام لگایا گیا ہے کہ بعض ایسے افراد کو حکومتی پروٹوکول میں شامل کیا گیا جن پر عوامی تحریک کے دوران سنگین نوعیت کے الزامات ہیں، جس سے عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچی۔
مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ 11 مئی کو مظفرآباد میں ہونے والے اجلاس میں وزیر امور کشمیر نے اجلاس کو جلد ختم کیا اور بعد ازاں مبینہ طور پر ایک متنازع شخصیت کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، جسے کمیٹی نے غیر سنجیدہ رویہ قرار دیا ہے۔
مذاکراتی عمل سے بائیکاٹ کا اعلان
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ اگر آئندہ مذاکراتی اجلاس میں امیر مقام شریک ہوئے تو وہ اس عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔
کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مذاکراتی عمل کو مؤثر اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے وزیر موصوف کی جگہ کسی “سنجیدہ اور ذمہ دار شخصیت” کو مقرر کیا جائے۔
پس منظر
جموں کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ عرصے سے بجلی کے نرخوں، بنیادی حقوق، اور معاہدات پر عملدرآمد جیسے معاملات پر حکومت سے مذاکرات کرتی آ رہی ہے۔ تاہم حالیہ مراسلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین کے درمیان اعتماد کا بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو خطے میں مجوزہ لانگ مارچ اور احتجاجی تحریک ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔




