Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کی سال 2024 کی آخری بریفنگ: پاکستانی سفارت کاری کے کامیاب سال کا احاطہ

اسلام آباد (رضوان عباسی سے )ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے سال 2024 کی آخری ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ رواں سال پاکستان کے لیے بین الاقوامی تعلقات اور سفارت کاری کے حوالے سے کامیاب رہا۔ حکومت نے قریبی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط بنائے اور عالمی مسائل پر مؤثر پالیسی اپنائی۔ممتاز زہرہ بلوچ نے مختلف علاقائی اور عالمی امور پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے خارجہ پالیسی کو عالمی حالات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ترجمان نے بتایا کہ بیلجیم، بیلارس، سعودی عرب، ترکمانستان، برطانیہ، آزربائیجان، ترکیے اور ایران سمیت مختلف ممالک کے اعلیٰ سطحی دورے کیے گئے۔ وزیر خارجہ نے ایران، گیمبیا، چین، سعودی عرب اور ترکیے کے کامیاب دورے کیے، جبکہ ایران، چین، قطر اور بھارت سمیت دیگر ممالک کے سینئر وزراء نے پاکستان کا دورہ کیا۔

ترجمان نے بتایا کہ افریقہ، مشرق وسطیٰ اور مشرقی ایشیا میں اہم علاقائی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں۔ پاکستان نے قریبی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے تیز رفتار پالیسی اپنائی، جبکہ چین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے یہ سال انتہائی اہم رہا۔ اکتوبر میں چینی وزیراعظم لی کیانگ نے پاکستان کا دورہ کیا، جس میں سی پیک پر خصوصی توجہ مرکوز رہی۔ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم نے سعودی عرب کے چار اہم دورے کیے، جن میں سرمایہ کاری اور تجارت کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہوئی۔ ایران کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کے باوجود فوری سفارت کاری سے حالات بہتر بنائے گئے۔ مرحوم ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے پاکستان کا دورہ کیا اور اہم امور پر اتفاق ہوا۔ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے ایس سی او سربراہان مملکت کانفرنس کی صدارت کی اور ایس سی او سربراہان حکومت کونسل اجلاس کی میزبانی کی۔

ای سی او اور ایس سی او تنظیمیں پاکستان کے لیے اس سال اہم ثابت ہوئیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے یورپی یونین کے ساتھ لیبر مائیگریشن اور گرین پارٹنرشپ میں تعاون کو فروغ دیا، جبکہ بیلاروس، ناروے، روس اور برطانیہ کے ساتھ تعلیم و صحت کے شعبوں میں معاہدے کیے۔ یورپی یونین کی جانب سے پی آئی اے پر چار سالہ پابندی ختم کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔ترجمان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت کی اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل پر زور دیا۔ او آئی سی کشمیر کانٹیکٹ گروپ کے تین اجلاس منعقد کیے گئے۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں مذاکرات کو ترجیح دی گئی، جبکہ سرحد پار دہشت گردی کے باوجود کابل کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے یو این جنرل اسمبلی میں عالمی امن و سیکیورٹی پر روشنی ڈالی، جبکہ اقوام متحدہ اور او آئی سی میں فلسطین کے حق میں آواز بلند کی گئی۔ پاکستان انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی اور یو این ڈس آرمامینٹ کا سربراہ منتخب ہونا بھی ایک بڑی کامیابی ہے۔ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ پاکستان، امریکہ سے برابری اور عدم مداخلت پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز مکمل منصوبہ بندی اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں دوست ممالک کے ساتھ تعاون کو نئی جہت دے رہا ہے۔

ٹیکس نہ دینے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی، چیئرمین ایف بی آر کا دو ٹوک اعلان

یہ بھی پڑھیں