واشنگٹن (نیوز ڈیسک) اے بی این نیوز کے پروگرام ڈیبیٹ ایٹ 8میں دفاعی تجزیہ کارمیجر جنرل(ر)زاہد محمود سے سوال کیا گیا کہ آج بھارت کی جانب سے 3 ماہ بعد سٹیٹمنٹ دی جارہی ہے کہ ہم نے پاکستان کے 6 جہاز گرائے ہیں اور اس پر ہمارے وزیر دفاع کہہ رہے ہیں کہ اس پر آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
آخر 3 ماہ بعد بھارت کو ایسا شوشہ چھوڑنے کا کیا مطلب ہے اس کے جواب میں دفاعی تجزیہ کارمیجر جنرل(ر)زاہد محمود نے کہا کہ بھارت اس وقت پریشر کا شکار ہے اور اس طرح کی باتیں کرتا رہے گا کہتے ہیں ناں جنگ کے بعد جو مکا ہے وہ اپنے منہ پر مار لینا چاہئے بھارت ایسا ہی کر رہا ہے۔ ابھی جو ملاقات ہو رہی ہے امریکہ میں پاکستان کی اس کا مطلب ہے وہ پاکستان کی بات سن رہے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل(ر)زاہد محمود کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ملٹری ٹو ملٹری کو ریلیشن شپ بڑے اچھے طریقے سے چل رہی تھی۔
پہلگام کے جو اسٹریجک ویلیو بڑی ہے اس کے بعد پورا پاکستان ایک پرفارمنگ پاکستان بن کر ابھرا ہے اس وقت ری سیٹ کر رہی ہے پوری دنیا اپنے ریلیشن شپ کو اور بھارت جو آج سے کچھ پہلے اپنے آپ کو عالمی طاقت کے طور پر پیش کررہا تھا حالانکہ بھارت کی ڈپلومیسی گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی ہوئی ہے اس کا بڑا اچھا اظہار انہوں نے ان دنوں کردیا ہے ۔
جس کو امریکہ اچھی طرح سمجھ گیا ہے ہمارا جو پہلگام کے بعد ڈپلومیٹک مشن جب گیا بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں تو اس کا بڑا ایفکٹ ہوا جو اس جہت ملی ہے وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کے دوران لنچ پر ٹرمپ کے ساتھ میٹنگ ہوئی،اور اس سے پہلے جنرل کوریل کی جو اسٹینڈنگ کمیٹی میں انہوں نے پاکستان کی بہت تعریف کی۔
ان کی کمانڈ چینج تقریب بھی ہوئی اس میں فیلڈ مارشل موجود تھے پاکستان بھر کر سامنے آیا ہے ایک پرفارمنگ کے طور پر میں یہ نہیں کہتا کہ ہماری پارٹنر شپ شروع ہوگئی ہے انڈیا کی وجہ جو غلط فہمیاں تھیں وہ دور ہوگئی ہیں۔
مزید پڑھیں۔جنوبی وزیرستان: مسلح ملزمان کی فائرنگ، جے یو آئی رہنما مولانا ثنا اللہ جاں بحق

