اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جو سہیل وڑائچ کے جس آرٹیکل کی بات ہو رہی ہے وہ برسلز کا ایونٹ تھا اور وہاں سینکڑوں لوگوں نے تصویر بنوائی ۔آرمی چیف کی طرف سے کوئی انٹرویو نہیں دیا گیا۔
پی ٹی آئی کا کوئی ذکر نہیں ہوا نہ ہی معافی کا ذکر ہوا۔ذاتی مفاد اور تشہر کیلئے یہ ایک صحافی کی اپنی کوشش ہے۔
9 مئی کے زمہ داران اور سہولت کاروں کو قانون کے مطابق کٹہرے میں آ نا ہو گا۔افسوس کی بات ہے کہ سینئر صحافی ہو کر بھی غیر زمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا۔
پاکستان خطے کی تقدیریں تبدیل کرنے والا ملک ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس پر تواتر سے حملے ہوتے ہیں۔نوجوانوں کو اپنی نظریاتی ریاست کی میراث اور تاریخ سمجھنی چاہیئے۔
ہندوستان کا خیال تھا کہ اپنی دہشت گردانہ پراکسیوں اور دیگر سہولت کاروں کی مدد کے بعد اب جب وہ حملہ کرے گا تو پاکستانی فوج کو آسانی سے ڈس کریڈٹ کر دیں گے مگر سب الٹ ہو گیا ۔پاکستان اور پاک فوج کا بھرپور جواب ملا تو انکی اپنی پراکسیز اور وہ خود ڈس کریڈٹ ہو گیا ۔
انکے کسی نے انکو کہا کہ ہندوستان اربوں ڈالر کی عسکری مشین رکھتا ہے تو با آسانی پاکستان کو شکست دے دیں گے۔کسی نے کہا کہ بھارت کو حملہ کرنا چاہیئے تا کہ ایک طرف سے ہندوستان اور دوسری جانب سے انکی پراکسیز فتنہ الخوارج اور فتنہ الۂندوستان بھی بیک وقت حملہ کریں گے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے دونوں محازوں پر دشمن کا مقابلہ کیا ۔
پاکستان سے دہشت گردی کو اکھاڑ پھینکنے کیلئےالیگل سپیکٹرم کو ختم کرنے کا جو فیصلہ تمام سیاسی پارٹیوں نے ۲۰۱۴ میں کیا تھا، آج تک اُس پر مکمل عمل نہیں ہو سکا ۔غیر قانونی قیام پذیر افغانوں کو نکالیں جو کہ جرائم میں ملوث ہیں تو ہمارے ہی ملک کے چند سیاسی و کریمنل کرداروں کو مسئلہ شروع ہو جاتا ہے ۔
نیشنل ایکشن پلان کے ۱۴ نکات پر مکمل عمل بہت ضروری ہے ۔گورننس کے گیپس کو فوج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے روزانہ کی بنیاد پر اپنے خون سے پورا کر رہے ہیں۔پاکستانی نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں۔
مزید پڑھیں۔سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی کی8 کیسز میں ضمانتیں منظور کرلیں

