Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

کُرم میں کشیدہ حالات،، ادویات کی قلت ، اب تک 30 بچے جاں بحق

پشاور(نیوزڈیسک)خیبرپختونخوا کے علاقے کُرم میں پرتشدد واقعات کے باعث علاقے میں ادویات سمیت دیگر ضروری اشیا کی قلت کا سامنا، اب تک 30 بچے جاں بحق ہوچکے ۔برطانوی اخبار دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر سے اب تک کم از کم 130 افراد ہلاک ہو چکے جبکہ دونوں گروہوں کے لوگ حملے کے خوف سے گھروں میں ہی رہے ہیں۔

دوسری جانب ہسپتال میں ادویات ناپید ہونے کے بعد بچوں کی زندگیاں خطر ے سے دوچار، 30 کے قریب بچے ادویات نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار گئے ، والدین کی اپنے سامنے بچوں کو مرتادیکھ کر چیخ وپکار ،ہر طرف آہوں سسکیوں سے کرم کی فضا سوگوار ہوچکی ہے .

مقامی لوگوں کا بڑھتے ہوئے انسانی بحران پر تشویش کا اظہار۔ پاراچنار سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ احباب علی نے کہا کہ ہمارے پاس خوراک، ادویات، دودھ اور ایندھن کی قلت ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں تشویش ہے کہ لوگ جلد ہی تمام بنیادی ضروریات سے محروم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اور مرکزی حکومتیں اس بحران پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہیں۔

صوبائی حکومت نے کہا کہ وہ ضلع میں زمینی راستے صرف اس وقت کھولے گی جب دونوں اطراف کے مسلح گروپ اپنے بھاری ہتھیاروں کو حوالے کر دیں گے۔ضلع کُرم کے صدر مقام پاراچنار کے مرکزی ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سید میر حسن نے بتایا کہ ادویات کی قلت کے نتیجے میں کم از کم 30 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

جرمنی، سعودی ڈاکٹر نے ہجوم پر گاڑی چڑھا دی،بچے سمیت دو افراد ہلاک، 68 دیگر افراد زخمی

یہ بھی پڑھیں