Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

بشریٰ بی بی نے جو کیا میری ہدایات کے مطابق ہی کیا، عمران خان کا بیان سامنے آگیا

راولپنڈی(نیوز ڈیسک)سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان نے سابق خاتون اول پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کو میں نے ہدایت دی تھی کہ احتجاج کو کس طرح اسلام آباد لے کر جانا ہے، انہوں نے جو کیا میری ہدایات کے مطابق ہی کیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر عمران خان کے ذاتی اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق آج اڈیالہ جیل راولپنڈی میں صحافیوں اور اپنے وکلا سے گفتگو بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ آج اہل خانہ نے مجھے اسلام آباد قتل عام کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کیا کہ کیسے ہمارے پرامن مظاہرین پر سیدھی گولیاں چلائی گئیں اور آئین و قانون کی بات کرنے والے درجنوں نہتے شہریوں کو شہید اور سیکڑوں کو زخمی کیا گیا، اب تک 12 شہدا کی تفصیلات سامنے آ چکی ہیں۔پوسٹ میں عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ جو بربریت ہوئی ہے پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے، یحیٰی خان پارٹ ٹو ملک پر مسلط ہو کر بیٹھ گیا ہے، میں نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر جانبدار جوڈیشل کمیشن بنا کر نہتے اور پرامن شہریوں کے قتل عام کی تحقیقات کروائی جائیں اور قتل عام کا حکم دینے والے اور اس میں ملوث عناصر کو سخت ترین سزائیں دی جائیں۔

پوسٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میری اس معاملے پر مزید مشاورت جاری ہے اور میں تفصیلات اکٹھی کر رہا ہوں، ہم اس معاملے کو ایسے نہیں چھوڑیں گے، اگر کسی کو لگتا ہے کہ ایسے خوف پیدا کرنے سے عوام چپ بیٹھ جائیں گے تو یہ اس کی خام خیالی ہے، ہم اس ظلم کے خلاف تمام عالمی فورمز پر اپنی آواز بلند کریں گے، تحریک انصاف کی قیادت کو ہدایت کی ہے کہ ذمہ داران بشمول شہباز شریف اور محسن نقوی پر ایف آئی آر کٹوائیں، دنیا کے کس ملک میں جمہوری احتجاج پر یوں سیدھے فائر کھولے جاتے ہیں؟پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ شہدا اور زخمیوں کے حوالے سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہسپتالوں کا ڈیٹا جلد از جلد پبلک کیا جائے اور تمام ہسپتالوں اور سیف سٹی کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کی جائے تاکہ 9 مئی کی طرح شواہد غائب نہ کیے جا سکیں۔

عمران خان نے کہا کہ میں نے اپنی پارٹی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو ہدایات دی ہیں کہ شہد کے لواحقین اور زخمیوں کی دیکھ بھال اور ان کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری لیں، جو لوگ لاپتا ہیں، ان کی بازیابی کے لیے تمام توانائی خرچ کریں اور جو لوگ گرفتار ہیں، ان کے کیسز کی پیروی کرنے والے وکلا کی ٹیمز کی حوصلہ افزائی کریں۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ جہاں تک آپریشن کی کامیابی اور ناکامی کا سوال ہے تو آپریشنز تو بندوق کے زور پر کامیاب ہو ہی جاتے ہیں، لال مسجد آپریشن بھی کامیاب ہی تھا، یحیی خان نے بھی آپریشن کامیاب کیا تھا مگر اس کے ایک ماہ بعد ملک 2 ٹکڑے ہو گیا تھا، اسلام آباد میں جو خون کی ہولی کھیلی گئی اس کا اثر بہت دیر پا ہوگا۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کو میں نے ہدایت دی تھی کہ احتجاج کو کس طرح اسلام آباد لے کر جانا ہے، انہوں نے جو کیا میری ہدایات کے مطابق ہی کیا۔

بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے عہدیداران اور کارکنان متحد اور منظم ہو کر ملک پر مسلط مافیا کے خلاف اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے اگلے مرحلے کی تیاری کریں، یہ سیاست نہیں جہاد ہے۔ایکس اکاؤنٹ پر جاری کردہ پوسٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان نے قوم کے نام پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد قتل عام کے شہدا کا سن کر انتہائی رنجیدہ ہوں، دورِ حاضر کے جنرل ڈائر نے جلیانوالہ باغ کی تاریخ دہرائی ہے، ان شہیدوں کا خونِ ناحق ضائع نہیں جائے گا اور ہم ان شہدا کا کیس اقوام متحدہ سمیت ہر فورم تک لے کر جائیں گے-عمران خان نے کہا کہ حقیقی آزادی کی تحریک ان ہتھکنڈوں سے رکنے والی نہیں، نہ میں پیچھے ہٹوں گا نہ پاکستانی قوم، اگر ہم نے آج ہار مان لی تو پاکستانی قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہوگا۔

پی ٹی آئی احتجاج کے دوران گرفتار سینکڑوں ملزمان کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

یہ بھی پڑھیں