لاہور میں قائد اعظم لائبریری کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک بڑا ڈیجیٹلائزیشن منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت آئندہ دو سے تین برسوں میں لائبریری کے زیادہ تر علمی اور تحقیقی مواد کو آن لائن منتقل کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق Quaid-e-Azam Library Digitisation Project کا مقصد طلبہ اور محققین کو دنیا بھر سے علمی وسائل تک آسان رسائی فراہم کرنا ہے۔ اس اقدام کے بعد لائبریری کی بڑی تعداد میں کتابیں اور تحقیقاتی مواد ڈیجیٹل شکل میں دستیاب ہوں گے۔
ڈائریکٹر جنرل پنجاب لائبریریز کاشف منظور نے بتایا کہ قائد اعظم لائبریری نہ صرف لاہور بلکہ ملک کی اہم ترین تحقیقی لائبریریوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس لائبریری میں اس وقت تقریباً ڈیڑھ لاکھ کتابیں موجود ہیں جبکہ لاکھوں آن لائن تحقیقی مواد تک رسائی بھی فراہم کی جاتی ہے۔
Quaid-e-Azam Library Digitisation Project کے تحت لائبریری کے ذخیرے کو مرحلہ وار ڈیجیٹل شکل میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس اقدام سے دنیا بھر کے طلبہ اور محققین گھر بیٹھے اس علمی خزانے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
لائبریری کی تاریخی عمارت انیسویں صدی کے وسط میں تعمیر کی گئی تھی اور ابتدا میں اسے جم خانہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں یہ عمارت سول سروسز اکیڈمی اور مارشل لا کے دور میں فوجی دفاتر کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہی۔
سن 1984 میں اس عمارت کو باقاعدہ طور پر لائبریری میں تبدیل کر کے عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ اس کا نام بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے نام پر رکھا گیا تاکہ قیادت اور علم کے تعلق کو اجاگر کیا جا سکے۔
اس لائبریری میں برصغیر کی انیسویں صدی کی ابتدائی مطبوعات سمیت نایاب علمی ذخیرہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ تاریخی جرائد، مخطوطات اور اہم دستاویزات بھی محفوظ کی گئی ہیں۔
قائد اعظم لائبریری بنیادی طور پر ایک تحقیقی اور حوالہ جاتی لائبریری ہے۔ یہاں محققین کے لیے انسائیکلوپیڈیا اور دیگر علمی مواد دستیاب ہیں جبکہ سی ایس ایس اور پی ایم ایس جیسے امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ بھی بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں۔
لائبریری میں امریکی حکومت کے تعاون سے لنکن کارنر بھی قائم کیا گیا ہے جہاں بیک وقت ستر سے زائد افراد مطالعہ اور تحقیق کر سکتے ہیں۔ مستقبل میں یہاں چین کارنر قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
پنجاب حکومت کے ای لائبریری منصوبے کے تحت جدید تعلیمی مواد عوام کو مفت یا کم قیمت پر فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس مقصد کے لیے بین الاقوامی ناشرین اور اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے ساتھ شراکت داری کی جائے گی۔
اس منصوبے کے لیے ایک ارب روپے کا ابتدائی بجٹ مختص کیا گیا ہے جبکہ 478 ملین روپے کی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔ مزید انتظامی منظوری کا عمل جاری ہے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ آن لائن معلومات آسانی سے دستیاب ہو جاتی ہیں لیکن کتابوں کا مطالعہ زیادہ مستند معلومات اور ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔ اسی وجہ سے قائد اعظم لائبریری تحقیق اور مطالعہ کے لیے آج بھی اہم مقام رکھتی ہے۔




