کراچی (شوبز ڈیسک )مشہور و معروف پاکستانی ادکار و ماڈل فیصل قریشی نے ٹینشن کی حالت میں رومانس سے متعلق ایسی بات کہہ ڈالی کہ سب کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔اداکار فیصل قریشی سے دورانِ پروگرام ان کی ایک بہت بڑی خاتون مداح نے ان سے سوال کیا کہ آپ خئی ڈرامہ میں جتنی بھی ٹینشن والی صورتحال ہو، رومانس کرنا نہیں بھولتے ، تو کیا حقیقی زندگی میں بھی آپ ایسے ہی ہیں؟سوال کا جواب فیصل نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں حقیقی زندگی میں ڈرامے کی طرح غصے میں تو نہیں رہتا اور نہ ہی بندے مارتا ہوں لیکن ہاں رومانوی نیچر ہے میری۔ اور میرا تو خیال یہ ہے کہ ٹینشن میں ویسے رومانس اچھا ہوتا ہے۔
فیصل قریشی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ایک وقت تھا کہ ڈاکٹر کہا کرتے تھے کہ سگریٹ پینے سے زندگی کم ہو جاتی ہے اور یہ ہے بھی حقیقت سگریٹ بری چیز ہے لیکن آج کل کے ماحول میں پریشانیاں بہت ہیں تو اس سے بھی انسان کی زندگی کو خطرہ ہے تو لحاظہ ٹینشن میں بھی سوچتا ہوں کہ رومانس کرنا چاہیے۔
مزیدپڑھیں :دیپیکا اور کترینہ سے بھی زیادہ مقبول اداکارہ کون؟
دورانِ پروگرام انہوں خئی ڈرامہ سیریل پر ہونے والی تنقید سے متعلق بھی گفتگو کی۔
فیصل سے میزبان تابش ہاشمی نے سوال کیا کہ آپ کا ڈرامہ تو خوب مشہور ہو رہا ہے لیکن لوگوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلے ہفتے میں 4 دن اور اب 2 دن کیوں نشر کیا جاتا ہے، کیا اسے بند کیا جا رہا ہے، اور ڈرامہ شوٹ گلگت بلتستان میں ہو رہا ہے تو پھر پشتون کلچر کیوں دکھایا جا رہا ہے وغیرہ وغیرہ؟
سوال کا جواب دیتے ہوئے اداکار فیصل قریشی نے کہا کہ یہ ایک فیملی ڈرامہ ہے جس میں ہدایتکار کے بقول ہم گلگت بلتستان اس لیے گئے کیونکہ وہاں کا کچھ ماحول کوئٹہ پشاور کی طرح دکھتا ہے،اور تنقید کرنے والے یہ نہیں جانتے کہ یہ ہمارے لیے کتنا مشکل تھا کہ جب آپ کی ٹیم میں 8 سے 9 خواتین بھی ہوں اور ان کیساتھ پہاڑوں کے درمیان کیمپنگ کر کےدن ، رات شوٹنگ کرنی ہو۔
اس کے علاوہ ڈرامے میں ہمارے کپڑوں کے ڈیزائن سے اندازہ ہو تا ہے کہ پشتون،بلوچ اور ترکش لباس زیب تن کیے جا رہے ہیں۔