لاہور (نیوز ڈیسک)ملک بھر میں ہلچل مچا دینے والے آن لائن جوا اور بیٹنگ اسکینڈل میں معروف ماڈل اور میڈیا شخصیت متیرا کا نام بھی سامنے آگیا۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی جاری تحقیقات نے عوام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق متیرا متنازعہ آن لائن بیٹنگ ایپ “موسٹ بیٹ” کی برانڈ ایمبسڈر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ یہی وہ ایپ ہے جو نوجوانوں کو جوا کھیلنے پر اکسا رہی ہے اور ہر ماہ اربوں روپے غیر قانونی طور پر ملک سے باہر منتقل کیے جا رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان ایپس کے تانے بانے براہِ راست بھارت سے جڑے ہوئے ہیں، جس نے سرحد پار مالی جرائم اور ڈیٹا چوری کے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔
تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے نہ صرف جوئے کو فروغ دیا جا رہا ہے بلکہ شہریوں کی انتہائی حساس معلومات — موبائل نمبرز، بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات اور لوکیشن ڈیٹا — بھی غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجا جا رہا ہے۔
ادھر حکام نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید مشہور ٹک ٹاکرز، ماڈلز اور انفلوئنسرز کے خلاف گرفتاریاں متوقع ہیں۔
عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آرہا ہے اور سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے کہ مشہور شخصیات بھاری معاوضے کے عوض ایسے پلیٹ فارمز کو جائز اور پرکشش بنا کر نوجوانوں کو گمراہ کر رہی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ: کیا متیرا اور دیگر شخصیات کو قانونی کٹہرے میں لایا جائے گا؟ یا پھر جوا مافیا کی سیاسی و مالی طاقت سب کچھ دبانے میں کامیاب ہو جائے گی؟
قوم کی نظریں اس اسکینڈل پر جمی ہیں۔
مزیدپڑھیں:ڈکی بھائی کا جسمانی ریمانڈ میں مزید 4 روز کی توسیع کر دی
