عروہ ہوکین نام کی تبدیلی کا معاملہ اس وقت موضوع بحث بن گیا جب ایک نجی ٹی وی کی رمضان نشریات میں مفتی صاحب نے اس پر اپنی رائے دی۔
پاکستان کی معروف اداکارہ عروہ اپنے نام کے ساتھ حسین کی جگہ انگریزی میں ہوکین لکھتی ہیں۔ اس طرزِ تحریر پر پہلے بھی گفتگو ہوتی رہی ہے۔
پروگرام کے دوران میزبان نے سوال کیا کہ بعض معروف شخصیات جان بوجھ کر اپنے ناموں کی املا بدل دیتی ہیں۔ اس بارے میں شریعت کا کیا مؤقف ہے؟
مفتی صاحب نے جواب دیا کہ کسی کو بگاڑ کر نام سے پکارنا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جان بوجھ کر نام تبدیل کرنا بھی مناسب عمل نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نام والدین کی طرف سے دیا جاتا ہے اور اس کا احترام ضروری ہے۔ نام درست انداز میں لینا ہر شخص کا حق ہے۔
انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا واقعہ بھی بیان کیا جس میں کسی کا نام بگاڑنے کو زیادتی قرار دیا گیا تھا۔
مفتی صاحب نے کہا کہ اسلامی نام رکھتے وقت بھی احتیاط کرنی چاہیے کیونکہ نام کا اپنا مطلب اور مقام ہوتا ہے۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکا ہے اور صارفین مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔