جنوبی افریقہ(نیوز ڈیسک)عام طور پر ایسا دیکھا گیا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا میچ کسی بھی ملک کی ٹیم کے ساتھ ہو زیادہ تر انڈین کرکٹ شائقین پاکستان کی مخالف ٹیم کی حمایت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ لیکن شاید پہلی بار ایسا دیکھا جا رہا ہے کہ انڈین کرکٹ فینز مجموعی طور پاکستان کی جیت کی دعائیں کر رہے ہیں۔اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مزیدار تبصرے نظر آ رہے ہیں۔جنوبی افریقہ کے مایہ ناز سابق کرکٹر اے بی ڈیولیئرز نے اپنے ایک پروگرام میں کہا کہ 26 دسمبر سے دو ٹیسٹ میچ شروع ہوئے اور دونوں ٹیسٹ چیمپیئن شپ فائنل کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
ایک میں پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ٹیسٹ سنچورین پارک میں کھیل رہی ہے جبکہ دوسری جانب میلبورن میں انڈیا اور آسٹریلیا مدِمقابل ہیں۔انڈیا کے لیے جتنی اپنی جیت اہمیت رکھتی ہے اتنی ہی پاکستان کی جیت بھی اہمیت کی حامل ہو گئی ہے۔دراصل یہ دعائیں پاکستانی ٹیم سے محبت یا بہی خواہی کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ یہ انڈین ٹیم کو ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے فائنل تک پہنچانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔جنوبی افریقہ کی ٹیم اگر پاکستان کے خلاف ہونے والی دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں سے ایک بھی میچ جیت جاتی ہے تو فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائے گی جبکہ انڈین ٹیم کی امید معدوم ہو جائے گی۔لیکن اگر پاکستانی ٹیم جیت جاتی ہے تو جنوبی افریقہ کا جشن مایوسی میں بدل جائے گا کیونکہ وہ ابھی رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر ہے۔
موجودہ صورت حال کیا ہے؟
دراصل آئندہ سال انگلینڈ کے لارڈز میدان میں ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا فائنل کھیلا جانا ہے اور اس کے لیے جنوبی افریقہ، آسٹریلیا، انڈیا اور سری لنکا کی چار ٹیمیں ابھی بھی مقابلے میں برقرار ہیں جبکہ بقیہ ٹیمیں اس دوڑ سے باہر ہو چکی ہیں۔اگرچہ جنوبی افریقہ نمبر ایک پر ہے اور دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا دو پر ہے لیکن انڈیا اور سری لنکا کے بھی فائنل میں پہنچنے کے امکانات ہیں لیکن اس میں بہت سے اگر مگر شامل ہیں۔آپ کو یاد ہوگا کہ سنہ 2022 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران زمبابوے اور انڈیا سے شکست کے بعد پاکستانی ٹیم کو اگلے دور میں جانے کے لیے نہ صرف اپنے تمام میچز جیتنے بلکہ انڈیا کے زمبابوے کے خلاف جیتے کی اشد ضرورت تھی۔اسی طرح انڈیا کو بھی آسٹریلیا کے خلاف اپنے دونوں بقیہ میچ جیتنے کی ضرورت ہے اور چونکہ ایسا ہوتا نظر نہیں آتا اس لیے اسے جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کے جیتنے کی دعائیں کی جا رہی ہیں۔
سنچورین میں بابر اعظم سے امیدیں
جہاں پاکستانی شائقین کو اپنے مایہ ناز بلے باز بابر اعظم کے فارم میں لوٹنے کا بے صبری کے ساتھ انتظار ہے وہیں سنچورین میں صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کی دوسری اننگز میں تین وکٹیں گر چکی ہیں اور ابھی پہلی اننگز کا خسارہ بھی پورا نہیں ہوا ہے اور بابر اعظم کے ساتھ سعود شکیل کریز پر ہیں۔
بابر اعظم نے دو چوکوں کی مدد سے 16 رنز بنائے ہیں جبکہ سعود شکیل نے آٹھ رنز بنائے ہیں اور انھوں نے بھی دو چوکے لگائے ہیں۔بابر پہلی اننگز میں محض چار رنز پر آوٹ ہو گئے تھے لیکن وہ یہاں محتاط انداز میں بیٹنگ کر رہے ہیں اور ان پر نہ صرف پاکستان کی جیت کا دارومدار ہے بلکہ انڈین شائقین بھی ان سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔اب وقت ہی بتائے گا کہ بابر یا کوئی دوسرا پاکستانی کھلاڑی ان امیدوں پر کتنا پورا اترتا ہے۔یہ جوڑی جتنے زیادہ رنز بنائے گی انڈیا کی امید اتنی ہی بڑھتی جائے گی۔ دوسری جانب انڈین ٹیم نے اگرچہ خود کو فالو آن سے بچا لیا ہے تاہم پہلی اننگز میں وہ ابھی بھی پیچھے ہیں۔ آٹھویں وکٹ کی شراکت میں اس نے 126 رنز بنائے ہیں اور وہ خسارے کو کم سے کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔تیسرے دن کا کھیل ختم ہونے پر اس نے آسٹریلیا کے 474 رنز کے جواب میں نئے کھلاڑی نیتیش کمار ریڈی کی سنچری کی بدولت نو وکٹوں کے نقصان پر 358 رنز بنا لیے ہیں۔
قومی ٹیم میں واپسی کیلئے شاداب خان نے سسر ثقلین مشتاق کی مدد لے لی

