لاہور( اوصاف نیوز)پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان نصیر نے کہا ہے کہ پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن میں 2 نئی ٹیمیں اور 2 اضافی وینیوز شامل کیے جائیں گے۔
نجی ٹی وی کے پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان نصیر نے کہا کہ بورڈ 6 مقامات پر میچز کے انعقاد پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ ان کے مطابق، انشاء اللہ، ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 چھ مختلف مقامات پر کھیلا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پشاور کا عمران خان سٹیڈیم (سابقہ ارباب نیاز سٹیڈیم) تقریباً مکمل ہو چکا ہے تاہم اسے بین الاقوامی معیار پر لانے کے لیے کچھ حتمی اقدامات باقی ہیں۔ ان کے مطابق پی سی بی چاہتا ہے کہ یہ اسٹیڈیم پی ایس ایل 11 کے میچز کی میزبانی کے لیے تیار ہو لیکن اس کے لیے طویل مدتی لیز کا معاہدہ ضروری ہے تاکہ بورڈ اس میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کر سکے۔
سلمان نصیر کا مزید کہنا تھا کہ فیصل آباد کو بھی نئے میزبان شہروں میں شامل کیا جا رہا ہے، کیونکہ وہاں پہلے سے ہی انٹرنیشنل میچز شیڈول ہیں۔
لیگ کی توسیع کے حوالے سے سی ای او کا کہنا تھا کہ پی سی بی 2 نئی فرنچائزز متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے اور ٹیموں کی فروخت کے لیے ٹینڈر کا عمل نومبر میں شروع کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق نئی ٹیموں کے حصول میں خاصی دلچسپی ہے اور اس سلسلے میں سخت مقابلے کی توقع ہے۔
یاد رہے کہ پی ایس ایل کا آغاز 2016 میں 5 ٹیموں کے ساتھ ہوا تھا جب کہ 2018 میں ٹیموں کی تعداد 6 ہوگئی تھی، اب مزید 2 ٹیموں کی شمولیت کے بعد پہلی بار لیگ 8 ٹیموں پر مشتمل ہوگی۔
یہ پیشرفت پی سی بی کی جانب سے ایک روز قبل پی ایس ایل فرنچائز کے مالک علی خان ترین کو قانونی نوٹس بھیجے جانے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق پی سی بی انتظامیہ علی ترین کی تنقید سے ناخوش ہے، جو ان کے بقول لیگ کو بہتر برانڈ بنانے میں ناکامی پر کی گئی تھی۔
ملتان سلطانز نے اپنے بیان میں کہا کہ افسوسناک ہے کہ پی سی بی نے تعمیری تنقید کو جرم سمجھا جب کہ علی ترین نے رات گئے ایک ویڈیو پیغام میں اپنا دفاع کرتے ہوئے نوٹس پھاڑنے کا عندیہ دیا۔
مزید پڑھیں:سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 8 دہشت گرد ہلاک


